بنیادی صفحہ / اردو / طلبہ یونینز روشن مستقبل کا ضامن

طلبہ یونینز روشن مستقبل کا ضامن

تحریر:شکور بلوچ

 

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق طلبہ یونینز اور ایسوسیشنز قائم کرنا طلبہ و طالبات کا بنیادی حق ہے. مگر یہاں ریاست سیاست سے اتنا خوفزدہ ہے کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے طلبہ یونینز پر پابندی لگا چکی ہے. ملک کے ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوںں پرمشتمل ہے کو نمائندگی کے حق سے محروم رکھنا غیر جمہوری عمل ہے جس کے بارے میں آئین پاکستان میں واضح طور پر بیان کیا جاچکا ہے۔

 

جمہوری ممالک میں طلبہ یونینز سیاست کی نرسری ہوتی ہیں. ان طلبہ یونینز میں نئی سیاسی قیادت زیر تربیت ہوتی ہے جو آگے چل کر قیادت سنبھالتی ہے جو کہ معاشرے کے مسائل ایک بہتر انداز میں حل کرسکتے ہیں لیکن پچھلے تین دہائیوں سے پاکستان میں لاڈلوں کی فرمائش پر اس نرسری کے عمل کردیا گیا ہے تاکہ شعور بیدار کرنے سے رکا جائے.

نوجوان قیادت کی تربیت نہیں ہو پارہی اور نتیجتاً ہم پر نااہل سیاسی جاگیرداروں کی قیادت مسلط ہوتے جا رہے ہیں. جاگیردار اور سرمایہ دار روزبروز طاقتور ہوتے جارہے ہیں اور استحصالی میں ریکارڈ قائم کر رہے ہیں اس عمل سے چند خاندانوں کے پاس کروڑوں لوگوں کا مستقبل آگیا ہے اور دولت بھی انہیں چند خاندانوں کے پاس آگیا ہے.

حبیب جالب فرماتے ہیں کہ

“ساری زمیں کو گھیرے ہوۓ ہیں آخر چند گھرانے کیوں”

طلبہ یونینز چونکہ بطور نرسری کام کرتے ہیں اگر یہ نرسری بند ہونگی تو باغ نہیں اسی طرح کے جنگل اگا کرے گے.طلبہ تنظیمیں ہر تعلیمی ادارے میں ہوتی ہیں جہاں ایک تنظیم کا آدمی ہوگا تو وہاں دوسرے تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات ہونگے جس سے ایک روابط قائم ہوتا جائے گا صوبائیت پرستی سمیت دیگر مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ اچھا تعلق داری قائم کرتے ہوئے روشن مستقبل کی تعمیر کیا جائے گا۔ اسطرح مباحثہ جنم لے گا اور مباحثہ کے بغیر آپ کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکتے.طلبہ یونینز کا کام محض کینٹین اور ہاسٹل کے کمروں کے مسائل حل کرنا نہیں بلکہ ملکی و بین الاقوامی مسائل پر مباحثوں کا آغاز کرکے نئی آنے والی نسل کو ہر قسم کے خطرے سے آگاہ کرکے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا ہے.

طلبہ یونینز کی بندش کا ایک نقصان یہ ہوا کہ آج ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے افراد بھی خود کو غیر سیاسی کہلواتے ہیں جبکہ ایسا ہوتا نہیں. کسی بھی ریاستی ڈھانچے میں رہنے والے افراد اور ریاست کا آپس میں تعلق ہوتا ہے
اگر ہم ریاست سے لا تعلق نہیں ہوسکتے تو سیاست سے کیونکر ہوسکتے ہیں. معاشرے کی بہتری کیلئے آواز بلند کرنے والا ہر شخص سیاسی ہے
خوراک صحت اور سیکورٹی جو کہ ہر انسان کا بنیادی حقوق ہیں فراہم کرنا ریاست کی ذمّہ داری ہے تو پھر ان میں سے کوئی بھی امور غیر سیاسی نہیں ایک نومولود بھی غیر سیاسی نہیں کیونکہ اسے بھی ان تمام سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ معاشرے میں ہر انسان کی ضرورت ہے۔ تو آئیے طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں اس سے پہلے کہ خود اٹھا لیے جائیں۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!