بنیادی صفحہ / اردو / آخری کال

آخری کال

تحریر:صغیر ظہیر بلوچ

 

سنو!  آج میں کہنا چاہتا ہوں میں تمہارے بغیر کبھی بھی ایک مکمل شخص نہیں بن سکوں گا۔ میں اگر جینا چاہتا ہوں تو صرف تمہارے لیے۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ تم کو پانا ہی میری زندگی کا مقصد ہے، کیونکہ تمہارے بنا میرا وجود ایسا ہے جیسے روح کے بغیر جسم، تمہارے تصور نے ہی مجھے زندہ رکھا ہے۔ میں نے کبھی تم سے خود کو جدا دیکھا ہے نہ کبھی میں نے تمہارے بغیر کوئی چاہ کی ہے۔

سنو! میں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ ایک گھر ہوگا۔ میں اور تم اس گھر کو محبتوں کا محل بنائیں گے۔ جہاں میرے ذرا دیر پہنچنے پر میں تمہیں گھر کے آنگن میں کھڑی بے چین پاؤں گا۔
انہی دنوں تم مجھ سے کہو گی کہ میں تمہاری طاق راتوں کی عبادتوں کا صلہ ہوں۔

 

سنو! آج میں وہ کہوں گا جسے کہنے کے بعد شاید میں تمہارے سامنے گنہگار ہوجاوں۔ شاید تم مجھے بیوفا سمجھو کہ اتنے خواب دکھانے کے بعد میں بدلا کیسے۔

سنو ! میری پرورش میں گھلتے تلخیوں کو گو کہ تمہاری محبت نے کم تو کردیا تھا پر ختم نہیں کیا۔ میں جب تمہیں دیکھتا تھا تو اور کوئی خیال ہی ذہن میں نہیں سَماتا تھا لیکن جب واپس اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے میں نے ہر روز مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو وہ تمہارے دیدار کی چاشنی کو ختم تو نہیں کرتا پر کم ضرور کرتا اسے۔ تمہاری محبت سے مجبور میں اپنے شہر میں ہونے والے سارے مظالم سے نظریں چرائے پھرتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نو آبادکاروں اور مقامی لوگوں کی جنگ کا اثر ہماری محبت پر پڑے۔

میں جانتا ہوں میں غلط نہیں تھا۔ کیونکہ میں ایک عاشق تھا جس نے صرف اور صرف اپنی محبت کے لئے جینا سیکھا تھا لیکن میں یہ بھول گیا تھا یہ آگ ہماری محبت کو لپیٹ لے گی۔

سنو !
تم جانتی ہو نا میں بھی ان کے ظلم کا نشانہ بنا لیکن آج میں بتا ہی دیتا ہوں کہ اس رات جب میں تم سے ملنے آیا تھا تو ہوا کیا تھا ۔

واپسی پر میں سوچ رہا تھا ہمیں دور کرنے والی رواجوں کے دیواریں مسمار ہوں گی۔ ہمیں محرم اور نا محرم بنانے والی مذہب بھی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ شہید فدا چوک پر پہنچتے ہی ایف سی کی کچھ گاڑیاں میرا منتظر تھیں ۔سب میری جانب لپکے،مجھے مارنے لگے میں پوچھے جارہا تھا بھئی مجھے کیوں ماررہے ہو ۔میں نے کیا کیا ہے؟

وہ بجائے کہ جواب دیتے مجھے گالیاں دے کر اور مارتے گئے۔ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر میرے ہاتھ پیرباتنی سختی سے باندھے گئے کہ خون کا دورانیہ بھی شاید رک گیا ہوگا۔

کچھ پل کے بعد مجھے گاڑی سے اتار کر دور پھینک دیا گیا۔ تب ایک شخص نے پاؤں کی رسی کھولتے ہوئے کہا بلوچی بڑوے تجھے سیدھا کریں گے۔
شاید وہ چاہتے تھے وہ مجھے مارتے رہیں اور میں خود کو بچانے کے لیے دوڑوں۔ لیکن میں سمجھ چکا تھا میرے دوڑنے سے ان کو لطف آئے گا اور یہ ہنس کر مزید تشدد کریں گے۔ میں اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ میں جان چکا تھا میں انہی کے رحم و کرم پہ ہوں۔ میری زندگی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہیں کرسکتے ہیں۔

تب ہی شاید میرے سر پر بھاری چیز ماری گئی میں بے ہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تھا تو میرے سر پر پٹی بندھی تھی. مجھے کسی لوہے کی کرسی کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ میرے سر سے کچھ 6 انچ اوپر ایک بلب تھی لیکن کمرے میں اندھیرا تھا اور کون تھا وہاں میں نہیں دیکھ سکا۔ ہاں آوازوں سے لگ رہا تھا 5 سے ذیادہ لوگ ہیں۔ جو دوسرے کا سوال ختم ہونے سے پہلے سوال پوچھ رہے تھے۔
مجھ سے پوچھا گیا فلاں رات تم نے دیواروں پر چاکنگ کی؟
میں نہیں نہیں میں نہیں۔
تم نے دیواروں پر بیغیرت ریاست لکھا۔ کیا تمہیں پتا نہیں ریاست کا مطلب لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔
تم بلوچی کتے کب سمجھوگے جو پاکستان کو گالی دے گا مطلب وہ کلمہ کو گالی دے رہا ہے۔ اور کلمے کو گالی دینے والے کی سزا موت ہے۔ تب ہی مجھ پر ڈندے برسنے لگے۔ ہاتھ بندھنے کی وجہ سے میں اپنے چہرے ہر ہاتھ بھی نہ رکھ سکا۔
وہ بس مارتے گئے۔ ایک بار پھر میں بے ہوش ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!