بنیادی صفحہ / اردو / تعلیم تربیت و معاشرہ

تعلیم تربیت و معاشرہ

تحریر : میر اعجاز بلوچ

الســــلامُ اعلیــــکُم
توجہ چاہوں گا

تعلیم

علامہ اقبال نے قوموں کے عروج و زوال کو ایک شعر میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
آ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے ۔شمشیر و سناں اول’طاؤس دربار آخر دوستو تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے زمانہ بدلتا رہتا ہے ہر وہ قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہے اور زندگی کو قائم رکھنے کے لیئے جدوجہد اللہ کے احکامات اور انسانیت پسندی کے لیئے کرتی ہے تو وہ یقیناّ زندہ اور پائندہ رہتی ہے.
ہم نے ہمیشہ ہی سے اپنے بنیادی فریضہ سے منہ موڑا ہے تعلیم جوکے ہمارے لیئے نہایت ضروری ہے ہم نے اسکی بقاء کے لیئے کوشش ہی نہیں کی اگر ہم دنیاوی سطح پہ پاکستان اور ملکی سطح پہ بلوچستان کا جائزہ لیں تو قدرتی وسائل سے ہمارا بلوچستان مالامال تو ہے ہی مگر بنیادی چیز تعلیم میں سب سے پیچھے یہ قون احساس محرومیت شکار اور باقی صوبوں کی نثبت پسناندہ بھی۔ کبھی ہم نے سوچا اسکی کیا وجوہات ہیں. کبھی ہم نے اسکا قصور وار استاد کو ٹھہرایا تو کبھی طلباء کو کبھی وفاق تو کبھی صوبائی حکومت کو زمہ دار سمجھا لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے گریہبان میں جھانک کے دیکھا کے ہم نے کیا کیــا۔ وہ قومیں کبھی ترقی کی راہ نہیں دیکھتی جن کے پاس علم کی شمع نا ہو.تعلیم جوکے اہم جزو ہے اور بنیادی حق جس کے بغیر کوئی بھی تبدیلی نا ممکن ہے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی سائنس نے ٹیکنالوجی سے ہوائی جہاز موبائل فونز کمپیوٹرز مشینیں وغیرہ وغیرہ کیسے بنائے ہمارے پاس اتنا وقت کہاں ان غیر ضروری باتوں پہ دماغ خرچ کریں ہمیں تو غیر ضروری ہی لگتی ہیں ہمیں تو بس پڑھنا یا پڑھانا بوج ہی لگ گیا ہے ہم تو بھئی بس وہی پرانی روایات درزی کا بیٹا درزی پکوڑے بیچنے والے کا بیٹا پکوڑے ہی بیچے گا مزدور کا بیٹا مزدور یا زیادہ سے زیادہ مستری. ہمیں یہ تعلیم حاصل کر کے کونسا کمیشنر بننا ہے. لیکـــن اب نہیں خدارہ اب ہمیں اس غفلت کی نیند سے اٹھنا ہوگا اپنے اردگر نظر دوڑانی ہوگی اپنے بچوں کے ساتھ ہر اس غریب کے بچوں کو بھی سکول لانا ہوگا جو تعلیم سے محروم ہیں ہماری اولین ترجیح تعلیم کو فروغ دینا ہوگی جن بچوں کے والدین کی مجبوریاں ہیں ان پہ محنت کر کے انہیں انہی کے بچوں کو سکول بھیجنے پہ رازی کرنا ہوگا سکول کا جائزہ لینا ہوگا اگر استاد کی غیر حاضری ہورہی ہے تو ہم پہ فرض ہیں انہیں مودبانہ طریقے اپنے فرائض سے آراستہ کیا جائیگا.دنیا ترقی و خوشحالی کہ طرف گامزن ہے مگر ہم اب بھی صرف اپنے زات سے آگے کا تصور بھی گوارا نہیں کرتے۔
ایک محان شخصیت کا قول ہے
ہماری بنیادی زمہ داری تعلیم یافتہ ہونا ہے جو ملک لکھنا پڑھنا نہیں جانتا آسانی سے دھوکہ میں آسکتا ہے
تو اس لیئے ہمیں چاہیئے ہم صرف کوشش نہیں بلکہ مکمل کوشش کریں ہر بچے کو سکول بھیجیں کیونکہ تعلیم کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔
.قوم کی فلاح ہمیں سے ہے ہم جب تک اپنے آپ کو زمہ دار تصور نہیں کرتے تب تک صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی!

*تربیت*

دوستو ہم نے کبھی یہ سوچا کے معاشرے کے بگڑتے حالات چوری فساد جھوٹ فریب دھوکہ قتل و غارت زناہ کاری اغواء کاری نشہ وغیرہ وغیرہ مسائل کس لیئے پیدہ ہوتے ہیں کون کرتا ہے یہ سب کچھ. یہ لوگ کہاں جنم لیتے ہیں کیا یہ انسان بھی ہیں یا دوسری مخلوق. رحم نام کی چیز تو ان میں ہی ہے نہیں.
تو دوستو زہنشین کر لیں یہ اور کوئی دوسری مخلوق نہیں یہ میں اور آپ ہی ہیں یا ہمارے ہی بچے ہیں اور کوئی نہیں اچھی تربیت نا ملنے اور ماحول کے برے اثرات کی وجھہ سے یہ بگڑ گئے جسے جو ماحول ملا جس طرح کے دوست ملے اسنے وہی سب کچھ اختیار کر لیا اگر ان کے سروں پہ والدین اچھے استاد یا اچھے پڑوسی کے ہاتھ ہوتے تو شاید یہ لوفر فسادی نا ہوتے یہ دنگے فساد نا کرتے انکے ان افعال سے بھی ہم بری ازمہ نہیں ہمیں ارد گرد اپنے ماحول بالخصوص بچوں پہ توجہ دینی ہوگی کون کیا کر رہا ہے کس کے ساتھ گھوم رہا ہے اُس کے اِس بچے پہ کیا اثرات ہونگے ہمیں یہ فرض سمجھ کر زمہ داری نبھانی ہوگی. میں صرف اپنے بچوں کا نہیں بلکہ ہر اس بچہ کا زمہ دار آپکو اور خود کو سمجھتا ہوں جو ہمارے ماحول میں بڑا ہورہا ہے.کیونکہ آج پڑوسی کا بیٹا جرائم پیشہ ہوا ہے کل ممکن ہے آپکا بیٹا یا بھائی بھی مختلف جرائم میں ملوث ہوجائے اور تب آپکے پاس سوائے بچھتاوے کچھ نا ہو۔ برے تو نہیں تھے ہم اے زمانہ تیری تلخیوں تیری عادتوں تیرے پیشے نے بگاڑ دیا ہم جائزہ لیں مدارس کا وہاں کے اکثریت طلباء فرمانبردار نیک اور اخلاقیات ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ ہے وہاں ان پہ پابندی ہوتی ہے
اور برے ماحول کا اثر باہر کی نثبت کم ہوتا ہے اور اچھی تربیت ملتی ہے انکے مقابلے میں باہر کا ماحول انتہائی آزاد ہوتا ہے. تو خصوصاً والدین اور باشعور دوست انسانیت پسند دوست خدارہ اپنے بچوں کا خاص خاص خیال رکھیں اور اچھے اخلاق و اصول سکھائیں بچوں کو برے ماحول سے بچا کر تعلیم کی طرف رجوع کریں. ہماری نئی نسل کی تربیت اچھی ہوگی تو وہ وقت دور نہیں ہم خوشحال ہونگے انشاءاللہ اور اس بگڑتے حالات سے نجات پا لینگے۔

معاشرہ

جو علم ہم نے پڑھا ۔۔۔۔۔اس میں الف سے انسانیت نہیں پڑھایا گیا! ہماری سوچ کے ۔۔اِس شہر میں اسکول نہ تھے۔۔۔* جی دوستو بات عرض کر رہا ہوں معاشرہ ہم سے ہے ہم معاشرے سے ہیں کائنات کو جس طرح اللہ تعالٰی نے ہم انسانوں کے لیئے پیدا کیا جہاں انسان کو اللہ نے اشرف المخلوق بنا کے بھیجا مطلب قریباً اٹھاراں ہزار مخلوق میں صرف ہم انسانوں کو اللہ نے شرف بخشا لیکن ہم انسانوں نے یہاں آکے معاشرہ بنایا چھوٹے بڑے طبقے بنائے قومی تحصب بنائے اپنے لیئے شہرت بنانے کے لیئے کیا کچھ نہیں کیـا مطلب نہم نے معاشرے کو بگاڑنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تو یہ سارا سسٹم کہاں سے شروع ہوا بات وہی اچھی تعلیم و تربیت نا ملنے سے ہمارا معاشرہ بگڑ گیا
تو میری یہ تحریر لکھنے کا مقصد یہی تھا خدارا ہم آپ مل کے اپنے معاشرے کو مزید بگڑنے٫خراب ہونے سے بچائیں اچھی تعلیم و اچھی تربیت کو ترجیح دیں شکریہ*
میرے اس پیغام کو آگے شیئر کریں اگر میرے اس پیغام کی وجہ سے صرف ایک بچہ کو زندگی میں اچھی تعلیم اچھی تربیت اور معاشرہ ملتا ہے تو میرا مقصد پورا ہوجائیگا۔
شکریہ

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!