بنیادی صفحہ / اردو / کرونا سائنسی تنظار میں

کرونا سائنسی تنظار میں

تحریر: یم بلوچ

(ایکٹو ممبر ایس ایس ایف)

وائرس کوئی زندہ جاندار نہیں ہے بلکہ یہ ایک چھوٹا سا بے جان نینو پارٹیکل ہوتا ہے جو پروٹین اور نیوکلئیک ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔
دنیا میں جتنے بھی اقسام کے وائرس پاۓ جاتے ہیں سب کو اپنی کاپی بنانے کے لئے کسی خاص زندہ خلئے کی ضرورت ہوتی ہے۔
وائرس کو حیاتیاتی سائنس یعنی بائیولوجی میں اس لئے مطالعہ کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں چند ایک خصوصیات زندہ جانداروں والی ہیں ۔
جیسے کہ تمام جانداروں کے اجسام بنانے کیلئے اس جسم کو بنانے کی معلومات ایک خاص مالیکیول میں ہوتی ہے جسے نیوکلئیک ایسڈ کہا جاتا ہے اسی طرح ہر وائرس کا بھی اپنا ایک چھوٹا سا نیوکلئیک ایسڈ ہوتا ہے جس کے اندر اس وائرس کو بنانے کی معلومات ہوتی ہے۔
دوسرا جس طرح زندہ جاندار اپنی نسل بڑھاتے ہیں اسی طرح وائرس بھی اپنے ہوسٹ کے خاص خلیوں میں جاکر اپنی لاکھوں کاپیاں بناتا ہے ۔ و گرنہ زندہ خلیوں کے باہر وائرس محض پروٹین اور نیوکلئیک ایسڈز کا ایک بے جان کرسٹل ہوتا ہے ۔
وائرس کا جینوم یا تو RNA ہوتا ہے یا پھر DNA اور یہ جینوم پروٹین کی cover کے اندر پیک ہوتا ہے پروٹین کے اس کور کو کیپسڈ capsid کہا جاتا ہے۔
فطرت نے بھی کیا نِرالے قوانین بنائے ہیں کہ اگر کوئی وائرس پودوں کے خلیوں میں اپنی نسل بڑھاتا ہے تو وہ صرف پودوں تک ہی محدود رہتا ہے وہ جانوروں یا بیکٹیریا کے خلیوں میں نہیں جاسکتا۔ اسی طرح انسان کا وائرس صرف انسانی خلیوں میں ہی داخل ہوسکتا ہے بیکٹیریا کا صرف بیکٹیریا میں۔ اگر فطرت نے ایسا قانون نہیں بنایا ہوتا تو ایک وائرس کی وجہ سے زمین سے زندگی کا کب کا خاتمہ ہوچکا ہوتا۔
بات صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوتی مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی وائرس انسان یا کسی دوسرے جانور یا پودوں کو بیمار کرتا ہے تو وہ بھی اپنے ہوسٹ کے خاص خلیوں میں ہی جاسکتا ہے ہر خلئے میں نہیں جاسکتا ۔
مثال کے طور پر پولیو وائرس انسان کے صرف اعصابی خلیوں Neurons میں ہی اپنی نسل بڑھاسکتا ہے باقی خلیوں میں نہیں جاسکتا اسی طرح ہیپاٹائٹس وائرس صرف اور صرف انسان کے جگر کے خلیوں کو کومتاثر کرتا ہے ہیومن ایچ، آئ ،وی Human HIV ایڈز کی بیماری والا وائرس انسان کے صرف قوت ء مدافعت والے خاص خلیوں کو متاثر کرتا ہے جن کو T-lymphocytes کہا جاتا ہے۔

اسی طرح کرونا وائرس بھی انسان کے نظام تنفس یعنی Respiratory system کے خلیوں کو ہی متاثر کرتا ہے ۔

زندہ جانداروں کے خلئے ایک خاص وقت کے بعد تقسیم ہوتے رہتے ہیں اور ان کے تقسیم ہونے سے پہلے پہلے جینوم بھی تقسیم ہوتا ہے ۔ ان خلیوں کو اور جینوم کو تقسیم کرنے کے لئے خلیوں کے اندر مالیکیولر مشینیں Molecular machinary ہوتی ہیں جو کہ وائرس میں نہیں پائی جاتی تو وائرس صرف اور صرف ان مالیکیولر مشینوں کو استعمال کرکے اپنی کاپیا بنانے کے لئے جانداروں کے خلیوں کا سہارا لیتا ہے ورنہ وائرس کی کسی کے ساتھ کوئی زاتی دشمنی نہیں ہوتی۔

وائرس وہ واحد چیز ہے جو RNA کو کوبھی جینیٹک مٹیریئل کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ RNA کو اگر دیکھا جائے تو وہ DNA کے مقابلے میں کافی usntable مالیکیول ہے اور RNA میں میوٹیشنز آنے کے چانسز زیادہ ہیں ۔
کرونا وائرس بھی ایک RNA وائرس ہے جو کہ single stranded possetive sense RNA پہ مشتمل ہوتا ہے اسی وائرس کا صدیوں پہلے سے وائرولوجسٹس کو پتا لگ چکا تھا کہ یہ موجود ہے ۔ اور اسکی وباء بھی ایک دو بار پھیل چکی تھی کچھ دہائیاں پہلے افریقہ اور سعودی عرب میں۔ مگر چونکہ وائرسز میں میوٹیشن ریٹ کافی تیز ہوتا ہے جسکی وجہ سے وائرسز کے Antigenic sites انکے پروٹینز اور method of replication میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں حالیہ کرونا وائرس بھی انھی میوٹیشنز کا نتیجہ ہے ۔ مطلب یہ کہ وائرس وہی صدیوں پرانا ہے مگر میوٹیشنل تبدیلیوں کی وجہ سے یہ پہلے سے کچھ زیادہ خطرناک بن گیا ہے اور جو پہلے والی دوائیاں تھیں وہ اب اسکو کچھ نہیں کر کرسکتیں۔

اس وائرس سے پھلینے والی بیماری اتنی زیادہ خطرناک بھی بھی نہیں ہے جتنا لوگوں میں خوف و حراس پایا جاتا ہے ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں اس وائرس سے متاثر 98% سے زیادہ مریض بروقت علاج سے صحت یاب ہوجاتے ہیں اور مرنے والوں میں بھی زیادہ تر بچے، بوڑھے ، شوگر کے مریض کینسر کے مریض یا پھر پھرایسے لوگ شامل ہیں جن کی قوت ء مدافعت کسی بھی وجہ سے کمزور ہے۔

یہ وائرس ایک مریض سے دوسرے لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے ۔ اور بہت سارے لوگوں میں اسکی علامات بھی پہلے دنوں میں ظاہر نہیں ہوتی جس سے متاثرہ لوگوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ متاثر ہوچکے ہیں جب تک کہ انکے خون کے نمونے لیکر ٹیسٹ نہ کیا جاۓ۔
یہ وائرس ایکسپوننشیئل پھیلتا ہے مطلب دو دوسے چار ، چار چارسے آٹھ، سولہ، بتیس ، ایک سو اٹھائیس etc۔۔۔۔ اگر احتیاطی تدابیر پہ عمل در آمد نہ کیا گیا تو کم سے کم بھی اگر یہ وائرس پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے 10 لاکھ لوگوں کو بھی متاثر کرے تو دس لاکھ مریضوں کو نہ بروقت علاج کی سہولیات میسر کرنا ممکن ہے نہ اتنے ڈاکٹر بر وقت موجود ہیں نہ دوائیاں اور چونکہ یہ وائرس نظام ء تنفس کو متاثر کرتا ہے اور مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اسلئے مریض کو وینٹیلیٹر لگایا جاتا ہے پورے پاکستان میں اس وقت 3000 یا کچھ کم زیادہ وینٹیلیٹر ہیں تو بروقت ان تمام چیزوں کی عدم دستیابی سے شرح اموات بہت زیادہ ہوسکتی ہیں۔

اس لئے سب سے بہتر اور واحد حل یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر پہ عمل کیا جائے۔
جیسے کہ زیادہ رش والی جگہوں سے دور رہنا۔
زیادہ تر وقت گھر پہ گزارنا۔
ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کی صفائی۔
سیاسی و قبائلی اجتماعات سے پرہیز وغیرہ۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!