بنیادی صفحہ / اردو / تاریخ پیدائش ایک الجھن کیوں؟

تاریخ پیدائش ایک الجھن کیوں؟

تحریر: خلیل احمد

تاریخ کا لفظ عربی زبان سے اخذ کیا گیا ہے جو اپنی اساس میں ارخ سے مشتق ہے جسکے معنی دن، عرصہ، وقت وغیرہ لکھنے کے ہوتے ہیں یا عام الفاظ میں ماضی میں پیش ہونے والے واقعات کو تاریخ کہتے ہیں اور پیدائش کسی بھی مادی جسم کی زیست کو پیدائش کہتے ہیں۔

چند ممالک میں جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو انکی تاریخ پیدائش اسی وقت لکھی جاتی ہے ایک پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کر کے ماہانہ وظیفہ مقرر کئے جاتے ہیں اور اسی تاریخ پیدائش کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کی تعلیمی یا دیگر سرگرمیوں کو مستقبل میں فروغ دیتے ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں نہ وظیفہ مقرر کئے جاتے ہیں اور نہ ہی صحیح طریقے سے پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔

اس دور نورس میں ہمارے لئے تاریخ پیدائش ایک اہم الجھن بن چکی ہے ایک ایسا گتھی جو ہمیں مستقبل میں کافی مشکلات کا شکار بنا سکتا ہے اور بنا بھی رہا ہے وہ الجھن قومی شناختی کارڈ، میٹرک، ایف ایس سی یا دیگر تعلیمی یا دینی اسناد میں تاریخ پیدائش کی روپ میں کم، زیادہ یا غلط ہوسکتی ہے جسکی وجہ سے طلبہ مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایسے طلبہ ہیں جو ابھی تک میٹرک یا ایف ایس سی کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں جنکی تاریخ پیدائش چوبیسں یا پچیس سال کے درمیان نوشت کیے گئے ہیں جو اعداد و شمار کے مطابق غلط ہیں۔

اس کے علاؤہ کافی طلبہ ایسے ہیں جنکی تاریخ پیدائش یا تو بہت ہی کم ہے یا بہت ہی زیادہ یا تو غلط ہیں یا قومی شناختی کارڈ اور دیگر تعلیمی یا دینی اسناد میں تاریخ پیدائش ایک دوسرے سے مختلف یا بر عکس ہیں جنکی وجہ سے طلبہ مستقبل میں کافی الجھن کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ تمام غلطیاں والدین اور اساتذہ کرام کی وجہ سے آشکار ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت طلبہ اس طرح کے معاملوں سے بے خبر رہتے ہیں ان تمام غلطیوں کو ایک ہی روپ میں صحیح طریقے سے درج کیا جاسکتا ہے وہ ہے “جماعت ہشتم” کیونکہ جب طلبہ جماعت ہشتم میں زیر تعلیم ہوتے ہیں تو اسی دوران انکی تاریخ پیدائش سالانہ بورڈ کی امتحانات کے لیے بطور رجسٹریشن کروائی جاتی ہے بعد میں انکی قومی شناختی کارڈ دیگر تمام تعلیمی اسناد اسی تاریخ پیدائش کے متعلق نوشت ہوتے ہیں۔

اس سے کافی لوگ واقف ہیں کہ اٹھارہ سال کی عمر میں قومی شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں اور اٹھارہ سال کی عمر سے لیکر تیس سال یا اس سے زیادہ کی عمر کی حد تک نجی یا پرائیوٹ نوکری حاصل کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔

ایک ظین و تخمین کے مطابق انسان کی عمر ساٹھ سال  یا اس سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے ہمارے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے چار یا پانچ سالوں کے بعد بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول یا دینی درسگاہ بھیجی جاتی ہے جہاں انکی تاریخ پیدائش لکھی جاتی ہے وہ تاریخ پیدائش صحیح اور غلط ہوسکتی ہے جو آگے طلباء کے لئے گتھی کا سبب بن سکتی ہے۔

لیکن بہت ہی کم لوگ اس چیز سے ناواقف ہیں کہ جب طلبہ جماعت ہشتم میں زیر تعلیم ہوتے ہیں تو اسی جماعت میں سالانہ بورڈ کے امتحانات میں امتحانی رجسٹریشن ہوتے ہیں اور اسی امتحانی رجسٹریشن میں طلبہ کی تاریخ پیدائش درج کیے جاتے ہیں۔

یہ تاریخ پیدائش ایک ہی روپ میں صحیح ہوسکتا ہے کہ پہلے والدین اور اساتذہ کرام کو طلبہ کے لئے پیدائشی سرٹیفکیٹ روا نہیں کروانا چاہیے کیونکہ جب طلبہ جماعت ہشتم زیر تعلیم ہوتے ہیں تو اسی دوران امتحانی رجسٹریشن شروع ہوتے ہیں اور اس وقت طلبہ کی عمر کو کم از کم تیرہ سال کی حد تک نوشت کروانا چائیے تاکہ انکی “ایف ایس سی” اٹھارہ سال کی عمر میں مکمل ہو اور “ماسٹرز” اکیس یا بائیس سال کی عمر کی حد تک مکمل ہو اسکی بڑی وجہ یہ ہے طلبہ کے لئے کافی وقت بچ جائیں گے اور اپنی زندگی کے عبور کو کم وقت میں حاصل کر سکیں گے۔

اس کے علاؤہ طلبہ جوکہ اٹھارہ سال سے لیکر تیس سال کی عمر کی حد تک وفاقی پبلک سروس کمیشن یا صوبائی پبلک سروس کمیشن کے لیے تیاریاں مکمل کر سکتے ہیں کیونکہ ان تمام بڑے امتحانات میں عمر کی تقاضے کو مدنظر رکھنا چاہیے جو کہ انتہائی ضروری اور اہم ہیں اس کے ساتھ ان اٹھارہ سے تیس سال کے اندر ان امتحانات کے لیے اہل ہو کر اچھی تیاریاں مکمل کرکے اپنے ہدف میں دسترس حاصل کرسکیں گے۔

اگر ہمارے اداروں میں تاریخ پیدائش کو صحیح معنوں اور طریقے سے لکھوایا جائیں تو نہ طلبہ مشکلات دو چار ہونگے نہ انکے تاریخ پیدائش دیگر تعلیمی اسناد میں مختلف ہونگے اور نہ ہی انکا وقت ضائع ہوگا بلکہ ان کے پاس کافی وقت دستیاب ہوگا۔

یہ تمام زمہ داریاں ان اساتذہ کرام اور والدین کی ہے کہ وہ طلبہ کو اس سنگین الجھن کے متعلق آگاہی فراہم کریں انکی تاریخ پیدائش کو صحیح طریقے سے درج کروائے تاکہ طلبہ مستقبل میں ہونے والے امتحانات کے لیے معینہ مدت تک بہترین تیاریاں کر سکیں۔

اس کے علاؤہ ایک بہترین شخصیت کے ساتھ ان امتحانات میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ایک قانون دان، سیاسی رہنما، سماجی کارکن، ڈاکٹر، انجنیئر، ادیب، لکھاری، شاعر، میڈیا پرسن اور دوسرے بڑے عہدوں پر فائز ہو کر ملکی سالمیت، معشیت، تجارت، بین الاقوامی تعلقات، اندرونی و بیرونی روابط، خارجہ پالیسی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اور اچھی زندگی بسرکر کے ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!