بنیادی صفحہ / اردو / کرونا اور دو قومی نظریہ

کرونا اور دو قومی نظریہ

تحریر: اسرار بلوچ


میں آج کرونا کے حوالے سے لکھنے پر اس لیے مجبور ہوا کیونکہ پاکستان کا بنیاد دو قومی نظریہ پر بنایا گیا تھا اور وہ دو قومی نظریہ آج بھی چل رہا ہیں دو قوموں کے درمیان پنجابی اور بلوچ کے درمیان پایا جاتھا ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے کیوں کے جو بلوچ قوم ہیں وہ منتشر ہیں تلخ حقائق تو بہت سے ہیں لیکن میں اس جانب آنا چاہتا ہوں کے کرونا اور اور دو قومی نظریہ اس میں بھی میں تلخ حقائق لکھ رہا ہوں شاید اس حقیقت کو لکھنے کے بعد میں غدار قرار دیا جاوں لیکن مجھ پر فرق نہیں پڑھے گا کیونکہ “مجھ سے نہ ہؤ سکے گا باطل کا احترام
میرے زبان کے واسطے تالے خرید لو “
آج سے چند ماہ پہلے جب یہ وباہ کرونا چین کے شہر وہان میں تیزی سے پہلینے لگا تو بلوچ قوم کے چند طالب علم چین کے سکالر شپ پر پڑنے گہے تھے ان کے گھر دوست اور چند با شعور لوگوں نے ان کے لیے آواز اٹھنا شروع کیا لیکن حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کے اگر ان بلوچوں کو پاکستان لایا گیا تو یہ وباہ پاکستان میں پہل جاہے گا کیونکہ کے پاکستان میں ان چند بلوچوں کا ایسولیشن کرنے کے لیے سہولیات نہیں ہے
خیر پر چند دنوں بعد ان طالب علموں کا واپسی کا سلسلے شروع ہوا تو بلوچ قوم کے وہ باشعور لوگ خوش ہونے لگے کے ستر سال میں اس دفعہ دو قومی نظریہ کو الگ سے رکھ کر بلوچستان کے لیے بھی پاکستان میں کچھ کیا جا رہا ہے لیکن چند دن بعد یہ فکر غلط نکلا اور بلوچوں کے اس واپسی کے پیچھے بھی دو قومی نظریہ ہی نکلا کیونکہ ان کی واپسی اس لیے ممکن ہو سکی کہ بلوچستان کے سکالر شپ پر بلوچستان کے باشندوں سے زیادہ پنجاب کے لوگ گہے تھے کیونکہ ان کے لیے بلوچستان کا جعلی لوکل بنایا گیا تھا بلوچستان حکومت کے ذریعہ ہی بنایا گیا تھا لہذا جو بلوچ چین سے واپس آتے تھے تو ان کو ڈاریکٹ گھر بیجھ دیا جاتھا تھا اور پنجابی سٹوڈنٹس کو 14 دن کورینٹاین کر کہ بیجھ دیا جاتا تھا کیونکہ دو قومی نظریہ جو تھا
اب آتے ہیں بلوچستان میں کرونا فیکٹری کی طرف اور یہ اس لیے کیونکہ جو فیکٹری بنایا گیا وہ ان زاہرین کے لیے بنایا گیا جو ایران گہے تھے اور ایران میں کرونا وباہ کافی حد تک پہل چکی تھی اور اگر وہ زاہرین بلوچ یا پشتون ہوتے تو ان کو واپس ہی نہیں لایا جاتا تھا کیونکہ بات پھر سے دو قومی نظریہ کی بات آتی ہیں خیر ان زاہرین کا خوش قسمتی یہ تھا کے یہ ظاہرین پنجاب کے زیادہ تھے جس طرح چین میں بھی زیادہ تھے اور ایران میں وباہ ان زاہرین میں بھی کافی حد تک پہل چکی تھی اور ان کی بد قسمتی یہ تھی کہ ان کی کورنٹاین کا ذمداری اس نالائک صوباہی حکومت حکومت کو دی گہی جو راولپنڈی سے سلیکٹ ہوتے ہے جن کو بلوچستان میں کرپشن کا ٹاسک دیا جاتھا ہے
اور اس دفعہ ان پر امید اچھے کام کا کیا گیا لیکن ان کی مثال اس طرح نکلی کے بلی کو دودھ کا چوکیدار بنانا ٹیھک باقی کاموں کی طرح بلوچستان کے سلیکٹڈ حکومت نے اس میں بھی اپنی نا اہلی دکھا کر قطرینہ ایسا بنایا کہ جیسے بھیڑ بکریوں کا رہنے کی جگہ ہو جس کی وجہ سے کرونا واہرس 6000 افراد میں منتقل کیا گیا اور یوں ان 6000 کو گھر بیجھ دیا گیا جن کی وجہ سے اب یہ واہرس پورے ملک میں پہل رہا ہے اور پنجابی قوم کا کہنا ہے کے ہمارے لیے ریاست کچھ نہ کچھ کریگی جس طرح پچھلے ستر سالوں سے کر رہا ہے اور بلوچ قوم کا کہنا ہے کے اب موت سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ زندگی اس ریاست نے خون خون کررکھی ہے ہم بم دھماکوں منسخ لاشوں کے بوجھ تلے زندہ ہیں تو یہ کرونا کیا ہے بلوچستان والوں کے خون کی قیمت برسوں پہلے ادا کی جاچکی ہے جو کبھی بھی کہیں بھی بہا جاسکتا ہے ہمارے خون کا سودا ہمارے حمکران کرچکے ہیں ہیمں جنرل ایوب جنرل ٹکا جنرل مشرف نے ختم نہ کر سکا تو کرونا کیا بالا ہے جو ہمیں ختم کرے گا

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

احساس انسانیت

راقم الحروف:عبدالصمد گدور (لسبیلہ)   حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ ...

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

error: Content is protected !!