بنیادی صفحہ / اردو / اپنی ذمہ داریاں پہچانیں…!!

اپنی ذمہ داریاں پہچانیں…!!

تحریر : عثمان میر 

چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والا وائرس جسے “کورونا ” کا نام دیا گیا۔جس نے کچھ ہی عرصہ میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 166 ممالک سے زائد اس وائرس سے متاثر ہیں اور دیگر ممالک بھی اس وائرس کے خوف سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک لاک ڈاؤن کیئے گئے ہیں۔ہر دن ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس وائرس کا شکار ہو رہےہیں۔امریکہ،چین اور ایران جیسے ممالک نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔
کوئی اس وائرس کو تیسری جنگ عظیم کا نام دے رہا،تو کوئی اسے سرد جنگ کہہ رہا۔کسی نے بائیولوجیکل جنگ کا نام دیا،تو کوئی عذاب الٰہی اور آزمائش کہہ رہا۔کوئی یہودی سازش کہہ رہا تو کسی نے ایمان کی کمزوری اور برے اعمال کا نام دیا۔ غرض انسانی فطرت کے مطابق ہر کوئی اپنا نقظہ نظر پیش کر رہا۔
چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔
لیکن سوال یہ ہے، اگر یہ تیسری جنگ عظیم ہے،تو اس کا بانی کون ہے؟
اگر یہ سرد جنگ ہے تو اس کے پیچھے چھپی طاقتیں کون سی ہیں؟
اگر یہ بائیولوجیکل جنگ ہے، تو کس کے خلاف ہے اور کون لڑ رہا؟
اگر یہ یہودیوں کی سازش ہے ،تو سب سے زیادہ غیر مسلم ممالک اس کی زد میں کیوں ہیں؟
اگر یہ ہمارے کمزور ایمان اور برے اعمال کی وجہ سے ہے ،تو پختہ ایمان اور اچھے اعمال والے کیوں اس کی لپیٹ میں ہیں؟
نمازِ جمعہ میں خطیب نے کہا کہ کورونا وائرس غیر مسلموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اور ہم پر آزمائش. ہمارا ایمان مضبوط ہے .یقین رکھو کچھ نہیں ہوگا،اور پھر کہتا ہے کہ جسے یہ بیماری لگ جائے تو اس سے دور ہو۔
امام صاحب! اگر یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے تو میں اس کے قھار نام سے ڈر کر کبھی یہ نہیں کہوں گا کہ کچھ نہیں ہوگا۔اگر ایمان مضبوط ہے تو کسی ایک کو بیماری لگنے سے ایمان کمزور نہیں ہونا چاہیئے.
چلیں! مان لیا آپ نے جو کہا بجا ہے۔
اب اگلا سوال اس کا حل کیا ہے؟
کیسے لاکھوں قیمتی جانوں کو بچایا جائے؟
ایک دوسرے پر الزام لگا کر؟
امریکہ،یہودی سازش ،ایمان کی کمزوری یا برے اعمال کا نتیجہ کہہ کر؟
نہیں، ہر گز نہیں۔
اس سے بچنا بہت ہی آسان ہے۔صرف اور صرف اپنی ذمہ داریوں کو پہچان کر۔
ایک اچھا اور ذمہ دار شہری بن کر۔
اگر والدین ہو تو اپنے بچوں کے ذمہ دار بنو۔
اگر استاد ہو تو اپنے شاگردوں کے ذمہ دار بنو۔
اگر امام ہو تو اپنے مقتدیوں کے ذمہ دار بنو۔
اگر تاجر ہو تو اپنے گاہکوں کے ذمہ دار بنو۔
غرض یہ کہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پہچان لو۔
اگر آج شہر ووہان کورونا فری ہے صرف حکومت،اچھے ڈاکٹر یا میسر سہولیات کی وجہ سے نہیں ہے،بلکہ ذمہ دار شہریوں کی وجہ سے ہے۔
اگر آج اٹلی سب سے زیادہ پریشان ہے تو اپنی غفلت اور غیر ذمہ داریوں کی وجہ سے ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ متحد اور ذمہ دار قومیں ہی سرخرو ہوئی ہیں۔
اگر دنیا کے طاقتور ممالک گھٹنے ٹیک چکے ہیں،جہاں ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔ہمارا ملک تو پہلے ہی سے کئی بحرانوں کا شکار ہے۔کرپشن،غیر ذمہ دار انتظامیہ،بدعنوان حکمرانی اور بیروزگاری،ملک کے جڑوں کو چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر چکی ہے.
خدارا! اپنی ذمہ داریوں کو پہچان لیں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔حکومت اور انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ایک متحد اور ذمہ دار قوم بن کر اس پریشانی کا سامنا کریں۔خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں کیونکہ ہم خیر والی امت ہے۔ہمیں اچھے کام کرنے اور دوسروں کو بھی اچھے کام بتانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

احساس انسانیت

راقم الحروف:عبدالصمد گدور (لسبیلہ)   حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ ...

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

error: Content is protected !!