بنیادی صفحہ / اردو / عذاب الہی

عذاب الہی

تحریر: غلام مصطفی محمدشہی

اس میں کوئی بھید نہیں کے جب ظلم و بربریت عام ہوجاہیں اور کوئی آواز حق بلند کرنے والا نہ ہو جاہیں جب مساجد اور قرآن مجید کی بے حرمتی کر کے جلایا جاہیں اور بحثیت امت ہمیں زرا سا بھی فکر اور احساس تک نہ ہو جاہیں جب ہر جانب بے حیاہی اور فحاشی کا بازار گرم ہو”میری جسم میری مرضی” جیسے نعرہیں لگنے شروع ہو جاہیں اور ہم سوچے کہ یہ تو عورتوں کے حقوق کی جنگ ہے اور ہم کانوں میں روہی دیکرحقاہق کو مسخ کر دی جاہیں جب محصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ ظلم وذیادتی محاشرےکا دستور بنے اور جنسی خواہشات پورے کرنے کے والے درندے بلا خوف و خطر دندناتے پھریں اُن میں خوف الہی ہو خوف قبر اور نہ ہی خوف قانون اگر قانون کے شکنجے میں آنے کے باوجود بھی ان کو عبرتناک سزاہیں نہ ہو جاہیں جب معاشروں میں معاشرتی اقدار اوراسلامی روایات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو تو ان جیسےمحاشروں کو حیوانیت والے محاشرےکا لقب دیکر اعلان ہونے لگ جاہیں جب پاکستانی بے چارے غربت کے مارے عوام اپنی محاشی حالات سےتنگ ہو کر خود سوزی جہیسے سنگین اقدام کرنے کا فیصلہ کریں توہمارے بےضمیرحکمران انیہں گھبرانہ نہیں کا لولی پوپ دیکر جھوٹے تسلی دیتے ہوے نظر آجاہیں جب حکمران طبقہ عوامی ووٹ کے کےذریعے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہو کر پھر اُسی عوام کے پہیسوں سے عیاشیاں کریں اور عوام خون پسینہ دیکر بھی بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ کے عذاب ان پر نازل کردیا جاہیں جب لوگ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اُسی کی احکامات کو بڑے بہادری سےکچلتےہوہیں سینہ تھان کر غرور و گمنڈ کا فسانہ گاتا رہیں اور خودکو اعلٰی وارفح تصور کریں اور دوسروں کو اعلی درجے کا کم ظرف کہاجاہیں جب انصاف فرہم کرنے والے قاضی پیسے کی چمک دمک کو دیکھ کرمظلوم کو ملزم مجرم کو محرم قرار دینے لگ جاہیں جب سوشل میڈیا کا واہرس نوجوان نسل کی خون میں سراییت کریں ٹک ٹوک کا انبار ہو اخلاقیات کا سرعام جنازہ نکلیے مسلمان قرآن کریم سے زیادہ ٹک ٹوک کو فوقیت دینے لگ جاہیں جب گھروں میں ماوُں کو گالیاں دیکر زلیل کیا جاہیں اور باہر جاکر ادب و اخلاق کا مجسمہ بنیے کی ناکام سعی کریں اور عذاب الہی کو دعوت دیتے ہوئے بڑے باادب اور معتبر دھیکاہی دینے لگ جاہیں جب منافع خور یہ بھول جاہیں کہ آج نہیں تو کل حضرت عزاہیلؑ سے ملاقات ہو کر ہمیشہ کےلیے موت کے منہ میں چلے جانا ہے مگر کہا وہ تو اس تشویشناک صورت حال کے باوجود ماسک اور صابن کی قیمتوں کو پرٙ لگا کے نا پید کی جا رہی ہو منافع خور خوب کماو عیش کرو لوگ بھاڑ میں جاہیں مر ہی جاہیں جب کراچی میں پانچ منزلہ عمارت زمین بوس ہوتے ہی درجنوں لوگ موت کی آغوش میں جا سوہیں زندہ بچ جانے والے اپنی پیاروں کو مارا مارا تلاش کریں اور دوسری طرف ہمارے سیاستدان پیاروں کے لاشوں پر سیاست کرتے ہوے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی دھند میں اُن کو کھلے آسمان بے یارومددگار آنسوں بہاتے چھوڑ جاہیں جب پولیس انسانی جانوں اور عزتوں کے محافظ خود ہی لوگوں کی جانیں لے اُن کی عزاتیں پامال کرنے کا مُحرتکب ہو جاہیں جب لوگ جھوٹ بولے اور جھوٹے کا ساتھ دیں سچ کا گلہ گھونٹ دیں اور سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا ثابت کرنے کےلیے اپنے ایمان کا سودا کرنے لگ جاہیں جب منافقت محاشرے کا اہم جُز بنے لوگوں میں منافقیت کا عنصر آہیں پھر بس سمجنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مھیٹی زبان سے الفاظ ادہ کرنے والے دل میں بہت سارے زہر چھپا کے بیھٹا ہےکیا ہی اچھا ہو کہ نہ وہ ہو اور نہ ہی ایسے محاشرے کا وجود ہو جاہیں جب انسان کو انسان سے خطرہ ہو تو پھر کوروناواہرس سے کس طرح کا خطرہ ہو جاہیں تو یہ سب کچھ ظلم ہونے کے بعد بھی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا قہر اور عذاب کروناواہرس نازل نہ ہو جاہیں تو آخر ہو کیا جاہیں####
Ghulam mustafa M.shahi

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

فلاحی تنظیمیں ،بلوچستان اور دردوار

تحریر: بسم اللہ سمالانی   غیرسرکاری تنظیم یا این جی او قانونی حیثیت ...

حقوق و تحفظ کی جنگ زندان اور ڈاکٹرز

تحریر: عاطف رودینی بلوچ دنیا کی ہر شے اپنے تحفظ یا اپنے ...

عمرانیات کا معاشرے میں کردار

تحریر :سیف جالب بلوچ ایک معروف یونانی فلسفی و ساٸنسدان ارسطو نے ...

سلیوٹ سے لاٹھی چارج تک کا سفر

تحریر: آصف بلوچ بات جب ہم مسیہاؤں کی کرتے ہیں تو ہمارے ...

error: Content is protected !!