بنیادی صفحہ / اردو / بلوچستان کی پکاراور اسکے لخت جگر نصیر آباد کی آواز

بلوچستان کی پکاراور اسکے لخت جگر نصیر آباد کی آواز

تحریر:  آصف بلوچ

یہ دل خون کے آنسو روتا ہے. جب دیکھتا اور محسوس کرتا ہے. کہ اے بلوچستان کے لختجگر اے میری شہیدوں کی سر زمین کے بیٹے تیری ماں پہ آئے دن یہ ظلم و جبر کے امبار گرائے جا رہے ہیں.
کیا تیرے سینے میں جو دل دھڑکتا ہے اسے درد نہیں ہوتا ؟ کیا اسے محسوس نہیں ہوتا کہ اسکی ماں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے ؟
نصیر آباد کو 1974ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا تھا. اور یہ نام نصیرآباد اس لیئے رکھا گیا کہ اس سر زمین کے بہادر بیٹے نوری نصیر خان کے نام سے منسوب ہوگا
تو یہ سر زمین بنجر ہو کے بھی نوری نصیر خان جیسے بہادر بیٹوں کو جنم دے گی.
جو اس لاوارث ماں کا سہارا بنیں گے. اور جب جب اس سرزمیں پہ ظلم ہوگا , جب جب اس سرزمین کے باسیوں پہ مشکل وقت آئے گا تو یہ بیٹا اپنی اس سر زمین کا بہادر بیٹا ہونے کے ناطے اپنا فرض نبھائے گا
اور ہم آواز ہو کہ اپنے باقی بھائیوں سمیت ہر ظلم پہ آواز اٹھائے گا.
لکین لیکن لکین… اے میری سر زمین تیرے اس بیٹے نے تیرے دودھ کا قرض نہیں چکایا. تیرے اس بیٹے نے دودھ کے قرض کو کبھی سمجھا ہی نہیں.بلوچستان میں ہونے والے تمام مظالم پر میری سر زمین کے باقی بھائی چیختے چلاتے رہے. تجھے پکارتے رہے
یہ سر زمین تجھے پکارتی رہی. #اٹھ_کہ_اب_وقت_ہے_آیا. پر لخت جگر خواب خرگوش سوتا رہا. بات آتی ہے پورے بلوچستان میں ہونے والے مظالم کی
باقی تاریخ پہ تو بات کرتے نہیں بس تاریخ کے ان سیاہ دنوں پہ روشنی ڈلانے کی کوشش کروں گا جن میں بلوچستان جلھس رہا تھااور لخت جگر(نصیرآباد) اپنی خوش گمانیوں میں مگن تھا
#28مئ1998ء کو راسکو کے مقام پر جب اس سر زمین کے سینے پہ ایٹم بم رکھ کے دھماکے کئے گئے. تو اس وقت وہاں کے مقامی لوگوں کے رگوں میں اس خوش فہمی کی لہر دوڑ اٹھی کہ اگر ہمارے زمین کا سینہ چیر دیا گیا ہے
تو اسکے بدلے میں ہمیں کینسر جیسے مرض سے لڑنے کے لیئے ہسپتال فراہم کئے جائیں گے. ہمیں تعلیم جیسیے زیور سے آراستہ کیا جائے گا. ہمیں زندگی کی تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی.
لیکن سب کچھ اسکے بر عکس تھا. پھر سے سر زمین چیخ اٹھی اور کہیں نہ کہیں اس چیخ کو پورے بلوچستان کے بیٹوں نے محسوس کیا. کیونکہ اس چیخ میں ایسا درد تھا کہ اسے سنتے ہی بلوچستان کے بیٹوں کے کلیجے پھٹ گئے.
اور انہوں نے اس ماں کی آواز پہ لبیک کہا لیکن اسکا #نصیرآباد چین کی نیند میں مبتلا سوتا رہا.خیر ماں تو ماں ہوتی ہے ناں.
اس لاورث ماں نے امیدوں کی پوٹلی اپنے دامن میں باندھے رکھی کہ ایک نہ ایک دن میرا بیٹا میری چیخ کو محسوس کرے گا
میری پکار پہ آئے گا
.وقت گزرتا گیا ماں کی امیدیں اپنے لخت جگر سے اب بھی وابستہ تھیں
#26_اگست_2006ء کو پھر سے اس بہادر ماں کے ایک عظیم اور بہادر بیٹے #نواب_اکبر_بگٹی کو چھین لیا گیا. ایک بار پھر اس ماں کو یتیم کر دیا گیا.
اس آہ نے اسکے بیٹوں کو ایک بار پھر سے بیدار کیا. لیکن پھر سے اس بلوچستان کو اپنے #لخت_جگر سےمایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملا.
لیکن ذرا اس ماں کی محبت کو تو دیکھو اس ماں نے اب بھی اپنے بیٹے کو اپنایا اور اپنے امیدوں کی پوٹلی کو اٹھائے اسی سوچ میں مگن رہی کہ ایک دن میرا یہ بیٹا بھی جاگ جائے گا
ایک دن آسمان کا سینہ چیر کے آئے گا. زمین کی چھاتی پھاڑ کے آئے گا.
اور میری سسکتی ہوئی جان میں ہمت بھر دے گا. اور اپنے بیٹا ہونے کا ثبوت دے گا.لکین دن گزرتے گئے تاریخ خود کو دوھراتی گئ.
اور #نصیرآباد اس تاریخ میں بس ایک بد نصیبی کی علامت بنتا رہا. اور خود کو اس سیاہ تاریخ میں لپیٹ کر بس یوں سوتا رہا.
اے سر زمین بلوچستان اب تو اپنی امیدوں کو یوں چکنا چور ہونے مت دے.
اب تیری پکار کی کوئی اہمیت نہیں یہاں نصیرآباد وہ بد قسمت خطہ ہے جو اپنے لئیے نہیں بول سکتا.کیونکہ اس نے کبھی اپنی محکومیّت کو سمجھا ہی نہیں.
ایک ہلکی سی جلھک #نصیرآباد میں موجود #اوچ_پاور_پلانٹ پر جو قریباً #800_میگاواٹ بجلی پیدا کرتی ہے. اور پورے بلوچستان کو صرف #600_میگاواٹ بجلی چاہئیے.
لیکن یہ بد قسمت نصیرآباد بلوچستان سمیت اس بجلی سے بھی محروم ہے. اور نا ہی کبھی یہاں کے نوجوانوں کو اس محکومی کا احساس تک ہوا ہو.
بس یوں یہ لخت_جگر اب اپنے بیٹے ہونے کا حق بھی کھوتا جا رہا ہے.اور یہ الفاظ ذہن میں آتے ہی واقعی یہ دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے. کہ جس دن یہ بیٹا اپنی ماں سے الگ تصور کیا گیا تو کیاہوگا؟
آئیے. اٹھئیے کہ اب بھی وقت ہے.
#اٹھئیے_اب_بھی_بلوچستان_پکار_رہا_ہے.
اٹھئیے نصیرآباد کی آواز بنئیے
#اٹھئیے_تاریخ_کے_سیاہ_اوراق_کو_بدل_ڈالئیے
اٹھئیے ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیجئے.
اٹھئیے اس دودھ کا قرض چکائیے.
اٹھئیے کہ آپ ہی اس بلوچستان کا واحد سرمایہ ہیں.

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

فلاحی تنظیمیں ،بلوچستان اور دردوار

تحریر: بسم اللہ سمالانی   غیرسرکاری تنظیم یا این جی او قانونی حیثیت ...

بلوچستان حکومت اب آفسر شاہی کے رحم و کرم پے ہے، وزیراعلی بلوچستان چیف سیکریٹری کی سربراہی میں بننے والے پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن واپس لے , نیشنل پارٹی

بلوچستان حکومت اب آفسر شاہی کے رحم و کرم پے ہے، وزیراعلی ...

کوئٹہ کورونا وائرس اپڈیٹ

کوئٹہ-کورونا وائرس اپڈیٹ مورخہ 06اپریل2020 سکریننگ کئے گئے لوگوں کی کل تعداد:3395 ...

error: Content is protected !!