بنیادی صفحہ / اردو / زخمی بلوچستان اور کرونا وائرس

زخمی بلوچستان اور کرونا وائرس

تحریر :مجیب مینگل

بلوچستان جس کو خالق نے کئی نعمتوں سے نوازا ہیں لیکن اس کے مخلوق میں ایک ایسا طبقہ ہے جس نے بلوچستان کو سیاسی ، سماجی ، اخلاقی، فلاحی، معاشی اور معاشرتی طور پر نہ صرف پسماندہ کیا ہے بلکہ تباہ کرکے رکھ دیا ہیں ۔ کبھی نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھا جائے تو کبھی سفید ریش کو سڑکوں پر بیٹھنے کے لیے مجبور کیا جائے ۔ایک ایسی فضا قائم کی گئی ہے جہاں زندہ رہنے کے لیے اگر بینائی کی طاقت ہے تو نابینا بن جائو ،طاقت سماعت رکھتے ہو تو بہرے بن جائے ،بولنے کی صلاحیت ہے تو لبوں کو سی لیا جائے اور شعور کی روشنی میں مقام رکھتے ہے تو جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے تب جاکر آپ ایک پر امن اور صحت مند فضا میں سانس لے سکتے ہیں ۔
. بہت ویران ہوتا جارہا ہوں
. بلوچستان بنتا جا رہا ہوں
اہلیان بلوچستان دلبرداشتہ نہ ہو بلکہ ابھی زخمی بلوچستان کو مزید زخمی کیا جارہا ہیں ۔کرونا وائرس جسے عالمی ادارہ صحت نے ایک وبائی مرض قرار دیا ہیں جہاں دنیا میں اس سے بچنے کے لیے دن رات کرکے مختلف اقدامات اٹھارہی ہے وہاں ہمارے جیسے بدبختوں کے حکمران ایک دوسرے پر الزام تراشی پر لگے ہوئے ہیں وفاقی حکومت میں صاف صاف کہہ دیا کہ تفتان بارڈر کھولنے پر ہماری وزیراعلی بلوچستان سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی لیکن موصوف اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ یہ وفاقی طرف سے قدم اٹھایا گیا ہے بلاشبہ اس بات میں کوئی شک نہیں کے اس نوعیت کا غلطی صرف موصوف ہی کر سکتے ہیں ۔
ابھی تک تو چاغی کے زخم خشک نہیں ہوئے اور بلوچستان میں کینسر جیسی ناسور کی بالدا کو مٹی میں دفن کر چکا ہے کہ اب یہاں پر غفلت اور لاپروائی کی انتہا کر کے اپنے صوبہ کو خود موت کے منہ میں دکھیلا جارہا ہے ۔ جہاں بلوچستان کے لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے وہاں ہماری صوبائی وزیرخوراک صاحب بچوں کی طرح گاڑی میں بیٹھ کر مزے لے رہے ہیں یہاں سے آپ سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں یہ وہ وقت ہیں کہ جہاں پر بیٹھ کر اس بات کی پلاننگ کی جاتی کہ اگر اس کے اس کی وجہ سے بازار بند ہوگی تو ان کون سے اقدامات اٹھا سکتے ہیں لیکن موصوف تو پارک سے نکلنے کی فرصت ہی حاصل نہیں کرتے۔
بلوچستان کی لوگوں کی خوش قسمتی اور خوش بختی کے یہاں خونی شاہراہیں بھی موجود ہے جہاں اب تک ہزاروں لوگ زندگی سے بے زند ہوچکے ہیں۔ یہ تباہ کاریاں کیا کم ہے کہ ہم اس طرح کی غفلت اور لاپروائی کرکے اپنے آپ کو مزید زخمی کر دے خدارا اسے مذاق مت سمجھو اور سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں ورنہ آپ کے پارٹی کی لوگ تو آپ کو معاف کر سکتے ہیں لیکن تاریخ کبھی آپ کو معاف نہیں کرے گی۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!