بنیادی صفحہ / اردو / راہِ جہد کار

راہِ جہد کار

تحریر: غوث بخش بلوچ

جہاں آپ کے خیالات آپ کی ذ ہنی تشخیص اور اندرونی قوت کو پچھاڑ کرنےکی کوشش کی جائے اور آپ کوذہنی غلام رکھا جائے وہاں سے ذہنی شورش جنم لیتی ہے اور اس سماج میں اگر مردہ اقوام اور احساس سے مردہ لوگ موجود ہوں تو وہ اپنی ساخت کو کھو بیٹھتےہیں-

اگر غیرت اور انقلاب سے وابستہ لوگ بھی اسی معاشرے میں موجود ہوں تو وہ کھبی بھی اس غلام معاشرے کو ذہنی فوقیت نہیں بخشتے اور دن و رات اسی تسلسل میں مگن ریتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس غلیظ فہم سے چھٹکارا پالے اور وہ دراصل زیست کے بھرے ہوئے پیکر و کردار سے برسر پیکار جہد کار ہو تے ہیں اور کسی بھی مظبوط طاقت کو کو چھلنے میں دقت محسوس نہیں کرتےکیونکہ انہی لوگوں میں اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جوکسی بھی Prosecutions کو اندھے آنکھ قبول نہیں کرتے –

ہاں مگر یہ بات ایک قابل فہم حقیقت ہے کہ انہی صلاحیت کو اپنانے کے لئے ایک جہدکار بننا لازم و ملظوم عمل ہےلہذا اپنی خود غرضی اور لاپروائی کو چنید کر سماج میں ایک ایسی نوعیت کاانقلابی فعل اپنایاجائے تاکہ آپکی کردار کو نسلوں تک یاد رکھا جائے اور آپ ہی کی وجہ سےسماج بیرونی طاقت اور لغور پن کا شکار نہ ہو-

لیکن افسوس ہم ذہنی غلام بننے پر رنج و افسوس کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں اور دن بہ دن ذیست کے خالی نمونے بن کر معاشرے میں لوگوں کو لغور اور بگا بنانے میں مصروف ریتے ہیں خود ساخستہ ہی اور اپنے ذہنی فوقیت کی جانچ پڑتال و شورش کی ڈر سے ہم کسی بھی علاقائی یا حکومتی زور کو قبول کرتے ہیں کیونکہ ہماراسماج ہی انہی لغور اور بگا لوگوں کے دباؤ کا شکار ہے۔

ہاں اگر کوئی فرد واحد کسی بھی طاقت کو کچل نہیں سکتا مگر اس عمل کی پر زور الفاظ میں مذمت تو کر سکتاہے-

کسی بھی طاقت کو کچھلنے کے لئے اگر آپ کے پاس وسائل کی کمی ہو اور اگر وسائل کسی بھی غیر مغلِ زانہ طریقے سے اپکو مل بھی جائے تو اس غیر شعوری طاقت کو کچھلنے میں گھبراہٹ اور بو کھلاہٹ کا شکار نہ ہوں کیونکہ انقلابی نظریہ سے طاقت کے خلاف اٹھنے کا واحد حل بندوق اور ایک انقلابی جہدکار ہے اور آپ بندوق کی نوک سے سماجی اور آرائشی طاقت کو بیگار کر سکتی ہے-

بندوق ہی ایک جہد کار کا حقیقی ساتھی ہے کیونکہ میدانِ جنگ میں یہ دشمن کے نیندیں حرام اور دشمن کو دن میں ستارے دیکھانے کے کام آتا ہے اور اپنے انقلابی ساتھی کے حوصلے پست ہو نے نہیں دیتا اور سانس کے آخری دم تک لڑنے میں اپنے ساتھی کے ہمگام رہتاہے-

ویسے بھی لغور اور بگا قوموں نے بندوق کی نوک کا تعین نہیں کیا اور اگر کیا بھی ہو گا تو صرف آرائشی جگہوں پر اور میدان جنگ میں بندوق خود ہی اپنی نوک کا تعین بتا دے گا کیونکہ اسکی نوک سے نکلنے والی گولی دشمن کے کلیجے کو چیر کر نکلے گی اور بسا اوقات یہ سر کے چھیتڑے اڑادے گا کیونکہ جہد کار اور گوریلا جنگ جو کی جنگ ایک بہت ہی بے رحم جنگ ہے اور جنگ لڑنا ہر بزدل کے بس کی بات نہیں اور یہ بات آپ کو کوئی انقلابی ساتھی ہی صحیح معنوں میں بتا دے گا کیونک قابض اور لغور دشمن کے ہوش او حواس اڑجاتے ہیں جب اس کا سامنا میدان جنگ میں کسی جہد کار سے ہو تاہے،

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

فلاحی تنظیمیں ،بلوچستان اور دردوار

تحریر: بسم اللہ سمالانی   غیرسرکاری تنظیم یا این جی او قانونی حیثیت ...

error: Content is protected !!