بنیادی صفحہ / اردو / کافر کو خدا یاد آیا

کافر کو خدا یاد آیا

تحریر: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

 

مترجم: عبدالحلیم

 

علی ایک گھبرو نوجوان ہے۔ وہ زندگی کے 14 ویں سال میں قدم رکھ چکا تھا۔ علی کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں جس میں علی کا نمبر چھٹا تھا۔ جس معاشرے میں علی اپنے شب و روز گزار رہا تھا، یہ معاشرہ قبائلیت کے فرسودہ اور ظالمانہ رسم و رواج کے شکنجے میں تھا۔ جہاں نواب و سردار کے حکم کی تعمیل نعوذبااللہ خدائی حکم کے مساوی تھی۔

اس قبائلی معاشرہ میں علم و شعور کے حصول کو زندگی کے بے راہ رو اصول سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ بالخصوص لڑکیوں کو تعلیم دلانے کی کوششیں ایک شیطانی اور سخت ناپسندیدہ عمل گردانا جاتا اور ساتھ ہی اس قبائلی نظام میں عورت ذات کی کوئی اہمیت بھی نہیں تھی۔ اس میں عورتوں کی آزادی کو گناہ تصور کیا جاتا۔

معمولی سے معمولی تنازع پر ایک دوسرے کا قتل کرنا اس قبائلی نظام کا خاصا تھا۔ ذات پات کے تفاوت کا غلبہ اس معاشرہ میں خطرناک حد تک سرایت اختیار کر چکا تھا۔ کمزور طبقات کے بنیادی حقوق پامال تھے۔ مذہبی پیشوا دنیا اور آخرت کی کامیابی کا پیمانہ مقرر کرتے ہوئے نظر آتے۔

علی اپنے اس قبائلی گھٹن زدہ ماحول سے نکل کر کوسوں دور کراچی میں جا کر بس گیا جہاں وہ پرسکون زندگی کے مزے اڑا رہا تھا۔
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد علی کراچی میں بوریت محسوس کرنے لگا اور اس نے یورپ جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

علی کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے یورپ تک رسائی حاصل کرے۔ مگر یورپ جانے کا جنون اس کے دل و دماغ پر سوار تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اپنے دوستوں کی مدد سے علی وسط ایشیائی ریاستوں میں پہنچنے میں کامیاب ہوا، جہاں پہنچنے کے بعد کراچی کی رنگینیاں اسے پھیکی محسوس ہونے لگیں۔

علی فطرتاً ایک محنتی شخص تھا۔ وہ دن رات کام کر کے اپنا وقت گزارا کرتا۔ کچھ وقت کے بعد اس کو برٹش پٹرولیم کمپنی میں ملازمت بھی مل گئی۔ کمپنی نے علی کی دیانت داری اور کام کے جذبہ کی لگن کو دیکھتے ہوئے اسے ٹھیکہ بھی تقویض کیا جس کے بعد علی دولت مند بن گیا۔

دولت مند ہونے کے بعد علی کے لائف اسٹائل میں غیر معمولی تبدیلی آئی۔ علی وہاں رنگین شاموں کی زلفوں کا اسیر بن گیا۔ کیسینو میں پیسے اڑانا اور شراب و شباب کی محفلیں سجانا اس کا مشغلہ بن گیا۔ جس نے علی کو اپنے ملک اور خاندان والوں سے مکمل بیگانہ کر کے رکھ دیا تھا۔

علی وسط ایشیا میں بھر پور رنگین زندگی گزارنے کے بعد یورپ جانے کی تیاریاں کرنے لگا۔ علی نے زندگی کا ایک بہت عرصہ یہاں گزارنے کے بعد یورپ آنے اور جانے کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی حاصل کر لی تھی۔

علی کے لیے اب یورپ جانا کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ علی بہت سی زبانوں پر عبور حاصل کر چکا تھا اور وسط ایشیا میں رہ کر علی نے بہت سے گر بھی حاصل کر لیے تھے۔

بالآخر علی یورپ کے ایک پرتعیش ملک چلا گیا۔ جہاں زندگی کی رنگینیاں وسط ایشیا سے بھی بڑھ کر تھیں۔ وہاں سرسبز و شاداب پہاڑی سلسلے واقع تھے جہاں بلند و بالا عمارتیں شان و شوکت کے ساتھ کھڑی کی گئی تھیں۔ پہاڑوں کے درمیان صاف اور شفاف دریا بہتے ہوئے نظر آتے تھے جس نے قدرت کے حسن کو مزید دوبالا کر کے رکھ دیا تھا۔

جہاں انگور اور دیگر میوہ جات کی فصلوں کی فراوانی تھی اور یہاں کے وائن کا برانڈ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ علی وہاں گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ وہ جاپان سے قیمتی گاڈیاں منگوا کر فروخت کرنے لگا۔ جس سے علی بہت جلد مالدار شخص بن گیا۔

علی نے وہاں بیاہ بھی رچایا اور کچھ وقت کے بعد اس کے ہاں ایک لڑکی کا جنم بھی ہوا۔ جلد ہی وہ مزید بچوں کا بھی باپ بن گیا۔ جس کے بعد علی کی زندگی میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے۔

علی جو ایک زمانہ میں کسینو اور شراب اور شباب کا گرو یدہ تھا، اس نے اچانک یہ سب کچھ تیاگ دیا۔ اب علی کو اپنی پچھلی زندگی سے گھن آنے لگی اوروہ توبہ کی طرف مائل ہوگیا جس کے بعد وہ پنج گانہ نمازی اور تہجد گزار بن گیا اور روزہ کی بھی پابندی کرنے لگا۔

اب علی زندگی کی تمام خرافات سے گلوخلاصی کر کے اپنے بیوی بچوں کی دیکھ بھال کرنے لگا کیوں کہ علی کو اپنا خدا یاد آ گیا تھا۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

احساس انسانیت

راقم الحروف:عبدالصمد گدور (لسبیلہ)   حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ ...

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

error: Content is protected !!