بنیادی صفحہ / اردو / کوروناوائرس توکل، مبالغے و مغالطے

کوروناوائرس توکل، مبالغے و مغالطے

تحریر:نجیب اللہ زہری

توکل لفظِ وکالت سے اخد کیا گیا ہے جس کے معنی و مفہوم بہتر وکیل کے ہیں یعنی اپنے کسی عمل پر وکیل قائم کرنا اسی طرح ہم توکل الی اللہ کی مفہوم کو اسلام کی اصطلاح میں دیکھیں تو کسی انسان کا اپنے ربِ کریم کو اپنے عمل کے نتیجے پر بہتر کارساز اور اپنے لئے بہتر وکیل تصور کرنا توکل ہے

بحیثیت مسلمان ہمارا اس پر کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے گئے نظامِ حیات میں توکل کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے یقیناََ توکل تمام انبیاء علیہم السلام کا شعار رہا ہے تعلیمات قرآن و حدیث کا بغور مطالعہ ہو تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ توکل میں ہی ایک مؤمن کی زندگی کا صبر و شکر اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر کامل بھروسہ ہے –

اللہ تعالیٰ نے توکل کی اہمیت کو قرآن کریم میں تسلسل سے ساتھ مقامات پر ’’وَعَلَی اللّٰہِ فَلْيَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن” کی صورت میں بیان فرمایا کہ مؤمنوں کو صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، یعنی حکم خداوندی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو صرف اللہ ہی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

لیکن اسی اثناء میں کچھ دیمک زدہ فلسفے دیکھنے کو اور پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ توکل مطلب ہی ہے کہ دنیاوی ایجادات و لوازمات سے خود کو الگ تھلگ کرنا جو کہ نہ عقلا نہ کہ نقلا علومِ دینیہ سے ثابت ہے مطالعہ کے دوران پروفیسر عقیل صاحب کی ایک بات نظر سے گزری جو کہ یقیناً یہاں بیان کرنے کے قابل ہے پروفیسر عقیل فرماتے ہیں کہ توکل کا مطلب اسباب و علل سے ماورا کوئی کام کرنا، مادی وسائل کی نفی کرنا اور تدبیر سے گریز کرنا ہرگز نہیں۔

اسی طرح اس توکل کا مطلب اپنی تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھنا،محض اسباب پر تکیہ کرلینا بھی نہیں۔ پہلا طریقہ بے عملی ،سستی ، کاہلی کے طرف لے جاتا ہے تو دوسرا تکبر، انکار خدا ، ٹنشن اور مادہ پرستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کا تصورِ توکل ان دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی پہلے اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔

علومِ حدیث کی طرف جائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت ایسے فرمودات موجود ہیں جو ہمارے ذہنوں کو مبالغے و مغالطے سے محفوظ رکھتے ہیں

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا اونٹی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: باندھو اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ (ترمذی ۔کتاب صفۃ القیامۃ)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل یمن بغیر سازوسامان کے حج کرنے کے لیے آتے اور کہتے کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرنا شروع کردیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت (سورۃ البقرۃ ۱۹۷) نازل فرمائی: حج کے سفر میں زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو۔ صحیح بخاری

ہمارے معاشرے میں توکل کے بارے میں کم علمی کی وجہ سے بہت سے فلسفے بیان کیئے جارہے ہیں جو کہ علومِ اسلامیہ میں قطعاً قابلِ قبول نہیں- تحقیق و تدبو استقراء کی کمی نے اور کچھ بانجھ فلسفوں نے ہمیشہ سے معاشروں کو مغالطے میں مبتلا کیا ہے جو کہ انتہائی نامناسب طرز ہے جس سے حقائق پر بردہ ڈالا جاتا ہے

ان دنوں پوری دُنیا میں عالمی مرض کورونا وائرس پر بحث چل رہی ہے کوئی اسے صرف فریب کہتا ہے تو کوئی اسے حقیقت تسلیم کرتا ہے ڈاکٹر سے لیکر حکیم تک سب ہی کے نسخے اشتہارات کی زینت بن چکے ہیں وہی جہالت کے پیکر کچھ علمی بانج لوگوں اپنی پھونکوں کی طاقت بیان کر کے کہتے ہیں کہ توکل الی اللہ ہی کافی ہے ہماری پھونک ہی ہر مرض کی شفاء ہے جو کہ صرف دکانداری ہے اور کچھ نہیں جس سے توکل کے اصل معنی و مفہوم کو بدل کر معاشرے کو مبالغے کی طرف دھکیلا جاتا ہے

توکل کے نام پر اسباب کا انکار کرنا جہالت ہے کسی بھی مرض سے چھٹکارے کے اسباب پر عمل کرنا یقیناً اسلام کی روح سے ثابت ہے

بڑے شور و غل سے بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو مسجدوں میں ایک ساتھ نماز پڑھنے سے روکا جارہا ہے آپس میں ہاتھ ملانے سے روکا جارہا ہے ایک دوسرے سے بغلگیر ہونے سے روکا جارہا ہے جو اسلامی تعلیمات اور توکل کے خلاف ہے اسلام دشمن سازش ہے بہت سے ایسے فلسفے جھاڑے جاتے ہیں جن سے صرف اور صرف اسلام تعلیمات کے حوالے سے مسلمانوں کو مغالطے میں ڈالا جاتا ہے

توکل ایک واضح اور الگ معنی و مفہوم رکھتا احتیاطی تدابیر کا اپنا الگ مفہوم ہے اسلام میں دونوں کو اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے توکل کے نام پر احتیاطی تدابیر اور احتیاطی تدابیر کے نام پر توکل کو چھوڑنا قطعاً عقل مندی نہیں بلکہ کم علمی ہے

ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جن یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں وائرس نما امراض سے احتیاطی تدابیر کو اپنانا ضروری ہے بلکہ بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاطی تدابیر اپنائے ہیں اور اپنے صحابہ کرام کو عمل کرنے کا حکم بھی دیا ہے

‏حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ایسی بیماری ہو جو تم سے کسی اور کو بھی لگ سکے تو وہ کوشش کرے کہ صحت مند لوگوں سے دور رہے

‎‏صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو متعدی امراض سے محفوظ رکھنے کیلئے آقا ﷺ نے مریض شخص کو ملے
بغیر شرفِ بیعت عطاء فرما دیا

صحیح مسلم شریف کے کتاب السلام میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے ثقیف جو کہ طائف کا علاقہ ہے وہاں سے ایک وفد آپ کے ہاتھ بیعت ہونے کے لئے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ان میں ایک شخص مجزوم ہے یعنی وہ کوڑ کا شکار ہے جزام یعنی کوڑ اس وقت کورونا وائرس کی طرح ایک پھیلنے والا مرض تھا جیسے ہی آپ نے سنا تو فرمایا کہ اس شخص کو کہو میں نے تمہاری بیعت قبول کرلی ہے تم یہاں نہ آؤ

ان احادیث سے واضع ہوتا ہے کہ متعدی Contiguous امراض سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے اگر ضروری نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے ملتے آپ کا نہ ملنا یہ بتاتا ہے ان امراض سے جتنا ممکن ہو اپنی حفاظت کریں باقی اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل و بھروسہ کریں کہ وہ بہتر کارساز ہے

دنیاوی اسباب پر عمل کرنا قطعاً توکل کے خلاف نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کا شعار ہے ہر اس مرض سے اپنی حفاظت کریں جو متعدی contiguous ہے اپنے گھر والوں کی بھی حفاظت کریں حکومت اور محکمہ صحت کی طرف سے دیئے گئے احتیاطی تدابیر کو ضرور اختیار کریں،

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!