بنیادی صفحہ / اردو / بی ایس او آزاد، پابندیاں حقائق اور مستقبل

بی ایس او آزاد، پابندیاں حقائق اور مستقبل

تحریر: ایڈوکیٹ میران کمال

تنظیم کا جامع تعریف کچھ اس طرح ہے کہ دو یا دو سے زیادہ مشتمل افراد کا کسی خاص مقصد کیلئے جدوجہد کرنے کو تنظیم کہا جاتا ہے

اگر طلباء تنظیموں کو لیا جائے تو ان کے کچھ اغراض و مقاصد ہوتے ہیں جن کو تنظیم کاری کے ذریعے حاصل کرنے کی تگ و دو کی جاتی ہے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا مقصد بلوچ طلباء کے معاشی و سیاسی حقوق کیلئے جدوجہد کرنا ہے بی ایس او ایک نہیں بلکہ تین چار تنظیموں میں بٹا ہوا ہے، پچھلے دو عشروں میں ان میں سے ایک تنظیم بی ایس او آزاد ( جو پہلے متحدہ، پھر بشیرزیب اور اس کے بعد آزاد) سب سے زیادہ ریڈیکل اور تعلیمی اداروں سے نکل بلوچ و بلوچستان کے جامع مسئلوں میں آواز بنتی رہی اور ریاست کے ساتھ مکمل ٹکراو کی جانب بڑھی، جس سے طلباء اور خاص کر ان کے ممبرز کو شہادتوں کی قربانی بھی دینی پڑی۔ مسنگ پرسنز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس کے گرد پورے بلوچستان کی سیاست (سیاہ سچ) آج بھی گھوم رہی ہے
خیر پھر یوں ہوا کہ بی ایس او آزاد پر لگ بھگ 2013 میں پابندی لگ گئی کالعدم قرار دیا گیا ۔ آج سات سال بعد بی ایس او آزاد ایک دفعہ پھر طلباء کے ڈسکشن کا ٹاپک بنا ہوا ہے۔ طلباء خاص کر لیڈر شپ طبقہ بات کررہا ہوتا ہے کہ آزاد کے دوستوں نے غلطیاں کئیے جو نہیں کرنے چاہیے تھے اب وہ غلطیاں کیا تھیں۔ کونسے پالیسیاں تھی جن سے طلباء کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا؟ یہ موضوع کا نیا باب بننے جارہا ہے
اگر ہم تنظیموں یا سیاسی پارٹیوں پر پابندیوں پر بات کریں تو نیپ کو بھی بھٹو نے کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد پشاور سے گوادر تک رہنماء گرفتار ہوئے بغاوت کی ہوا چل پڑی ، بڑے سیاسی گرو گرفتار ہوئے اور حیدرآباد جیل بھیج دیے گیے ورکرز اور سیکنڈ لیڈر شپ نے ہتھیار اٹھائے اور یہ بغاوت وسیع ہوتا گیا اور ایسا وقت آیا کہ بھٹو کو اپنے ہی جنرل نے پھانسی پہ لٹکایا ۔اس عرصے میں جب کوئی قوم پرست پارٹی اور لیڈر نہیں تھا تو بی ایس او نے انکی خلاء پوری کی۔ بلاشبہ بی ایس او طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی لمحات میں قومی مسائل میں بھی ایک بامقصد کردار ادا کرتا رہا ہے
اچھا تو نیپ پر پابندی کے بعد بلوچوں نے اپنی الگ اور پشتونوں نے الگ الگ پارٹیاں بنائی اور اپنے سیاست چلاتے رہے ٹھیک اسی طرح بی ایس او آزاد کے ساتھ منسلک ممبرز نے بساک ( بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی) تلے طلباء سیاست کو قبول کیا جو ایک پرامن صرف اور صرف تعلیمی مسائل پر کام سیاست کرتا رہا اور کررہا ہے ۔
اب اس دوران بساک کے ممبرز کو آزاد کی کمی محسوس ہونے لگی اور ایک کمپین بھی شروع ہوا کہ آزاد پر لگی پابندی ہٹائی جائے۔ اب کونسے مشکلات یا مثبت چیزیں سامنے آئے ہیں کہ طلباء کو آزاد کی شدت سے محسوس ہونے لگا ہے اور پرامن تحریک کی طرف گامزن ہونا چاہتے ہیں۔
غنی بلوچ ایک انتہائی متحرک طلباء رہنماء ہے جو اس بحالی تحریک کو بڑے مدلل انداز میں چلا رہے ہیں اور ان کی طرف سے آزاد کی بحالی پہ تحریک چلانے کی شروعات قابل تعریف ہیں، مگر غنی بلوچ طلباء کو بتا سکتا ہے کہ کیا آزاد کی شکل میں پرامن سیاست پھر سے شرع ہوسکتی ہے؟
آزاد کے ممبر پھر سے سیاسی نظریاتی اور کیمپس پالیٹکس کو اپنائیں گے ؟
کیا بی ایس او کے تمام دھڑوں بشمول بساک کے ایک منظم (بی ایس او) کی طرف قدم بڑھائی جاسکتی ہے۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!