بنیادی صفحہ / اردو / کرونا وائرس احتیاطی تدا بیر اور بلوچ روایات

کرونا وائرس احتیاطی تدا بیر اور بلوچ روایات

تحریر: زبرین بلوچ

پچھلے سال کے آخری مہینوں میں چین کے شہر ووہان سے یہ پھیلنے والا وائرس پورے دنیا کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ ناصرف خوف بلکہ اس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر بھی ہوئے ہیں۔

ووہان سے پھیلنے والا یہ وائرس دنیا کے سو سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ صوبہ بلوچستان میں ایران سے آئے زائرین کی وجہ سے یہ وائرس پھیلنے کے خدشات ہیں اور پھیل گیا ہے، کتنا پھیل گیا ہے اسکی ابھی تک کوئی کنتی موجود نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس چیک کرنے کے لئے ابھی تک آلات میسر نہیں ہیں۔

ایک طرف سے اس وائرس سے اموات ہورہے ہیں تو دوسری طرف یہ وائرس پھیل بھی رہا ہے اور تیسری طرف ڈبلیو ایچ او( ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزین) نے حفاظتی تدابیر اور مریض کے تشخیص کے علامات بھی بتا دئیے ہیں۔

اس وائرس سے جو بچنے کے تدابیر جو دئے گئے ہیں جو بالکل ہمارے معاشرے( بلوچ معاشرے ) کے برعکس ہیں۔ ہمارے روایات میں مہمان نوازی، گلے ملنا، ہاتھوں سے بوسہ لینا، ایک پلیٹ میں کھانا شامل ہیں تو دوسری طرف اگر کوئی شخص مشتبہ مرض ہو تو یہ روایات کی وجہ سے کافی لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

حفاظتی تدابیر میں ماسک کا استعمال، بار بار ہاتھ دھونا، ایک دوسرے سے دور رہنا، ہاتھ نہیں ملانا اور الگ برتن استعمال کرنا شامل ہیں۔

اس وائرس سے بچنے کے لئے ان تدابیر پہ عمل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ ابھی تک اس وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

ایک طرف تدابیر ہے تو دوسری طرف ہماری روایات ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک ہم ان تدابیر پہ عمل نہیں کررہے ہیں۔ اسکی بڑی وجہ سماجی دباؤ (Social pressure) ہے۔ کیونکہ ہمارے سماج میں عام دنوں میں مٹی سے بچنے کے لئے بھی آپ ایک ماسک استعمال نہیں کرسکتے، گلاسز( چشمہ) استعمال نہیں کرسکتے، ہاتھوں سے بوسہ لئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

ایسی کیا بات ہے کہ ہم یہ احتیاطی تدابیر کو اپنے لئے باعث شرم محسوس کرتے ہیں؟ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم ماسک پہن لینگے ہاتھ نہیں ملائینگے تو لوگ ہم پہ ہنس لینگے کہ ہم ڈر رہے ہیں۔ یہی ایک دباؤ ہے جو ہمارے معاشرے میں اور یہ سماجی دباؤ جان لیوا بھی بن سکتا ہے۔

کیا ہم کچھ دنوں کے لئے بنیاد پرستی یا روایات کو چھوڑ کر نہیں رہ سکتے؟ کیا کچھ دنوں کے لئے مہمان نوازی بند نہیں کر سکتے؟ کیا کچھ دنوں کے لئے ہم ماسک پہن کر ہاتھ ملانا بند نہیں کرسکتے؟ اگر ہم یہ تدابیر پہ عمل کرینگے تو کیا ہماری روایات کی پامالی ہوگی، روایات کی پامالی ہوگی یا پھر لوگوں کی موت ہوگی؟ کیا یہ ہنسنا مزاق اڑانا بھی ہمارے معاشرے اور روایات کے حصے ہیں؟

یہ کچھ سوالات ہیں ان کے اوپر ہر شخص نے سوچنا ہے، کچھ دنوں کے لئے کچھ نہیں ہوگا نا کسی کے ہنسی سے کسی کی ذات میں کمی آئیگی اور نہ ہی تدابیر اختیار کرنے سے کسی روایات کو یا کسی مزہب کو خطرہ ہے۔

بد قسمتی سے بلوچستان اور بلوچ معاشرہ صدیوں سے بنیاد پرست اور روایات پرست رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا سے سینکڑوں سال ابھی تک پیچھے ہیں۔

روایات ہر معاشرے کے لئے ضروری ہوتے ہیں مگر زندہ رہنے کے لئے روایات کو چھوڑنا کوئی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!