بنیادی صفحہ / اردو / قومی سوال اور بی ایس او آذاد

قومی سوال اور بی ایس او آذاد

تحریر: میران کمال ایڈوکیٹ

بی ایس او آزاد کے دوستوں سیاسی قابلیت تھا سیاسی زبان و ادب سے پر پوری مہارت حاصل تھی بلوچ قومی سوال کو عام کیا، سوچ کو فروغ دیا (آزاد کا کام ہی یہی تھا تبلیغ)

پشتونوں کی کامیابی کا خلاصہ نہیں مگر روشنی لازمی ڈالنا چاہوں گا،
اگر دیکھا جائے پشتونوں کی تحریک کم وقت میں اپنے قومی مسائل ریاست کے سامنے رکھ کر پوری پشتونوں کو یک مشت کرکے اپنے تحریک کو بڑے تیزی سے آگے لے جارہے ہیں۔
بلوچوں کی تحریک ہر دس سال بعد تیزی سے شروع ہوکر کچھ عرصے بعد سرد خانے کی نظر ہوتا ہے جو کئی سوالات جنم دیتی ہے؟

آخر کیا نقصانات تھے کہ ہم بلوچ ہر بار ناکامی کے نظر ہوتے ہیں؟
کیا سرداروں کی سازش تھی؟
کیا مڈل کلاس کی غداری تھی؟
غدار لقب نے بلوچ تحریک کو سب سے زیادہ نقصانات دیا۔

چلو ایک چھوٹا سا قصہ آپ لوگوں کے ساتھ کرتا چلوں، 2014 میں میرے ایک عزیز دوست صلاح الدین اے ون سٹی کے ایک ہوٹل میں میرے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا ۔ اس کا ایک اوردوست وہاں پہنچا اس کیلئے بھی چائے کا آرڈر دیا مگر صلاح الدین نے اس سے بلوچی رسم و رواج کے مطابق سلام دعا نہیں کی، کچھ منٹ بعد ہی ایک دم سے ایک آواز آئی ڈرا دینے والی، اور ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ کچھ سادہ لباس میں لوگ تھے اور ان کے ساتھ پولیس بھی تھا۔

ہمارے شناختی کارڈ چیک کیئے اور صلاح الدین کو کہا کہ چلو ہمارے ساتھ،ابھی ہمیں پتہ نہیں تھا کہ یہ کون ہیں اور کیا ہورہا ہے۔ ہماری سوچ میں اس وقت خلائی مخلوق جیسے لفظ بھی نہیں تھے، تو میں نے کہا خیر ہے جناب!
(گالی گلوچ) دےکر میرے ساتھ بلال جگنہ، میراج اور اس مشکے والے کو بھی ہوٹل کے باہر لے گئے، باہر نکلے تو اب میرے پاوں کانپنے لگے۔صلاح الدین کو گاڑی میں ڈال کر ہمیں پیچھے ہونے کا کہا، تب مشکے والے صلاح الدین کے مہمان کو کہاکون ہو تم ؟ اتنے میں اس کو بھی گاڑی میں ڈال دیا مگر اس کے ہاتھ نہیں باندھے۔


خیر اس کے بعد وہی روایتی سرگرمیاں، صلاح الدین کے گھر والوں کو واقعہ کا اطلاع دینا سیاسی لوگوں (ایم پے اے) اور تعلق دار لوگوں سے ملنا اپنے دوست کی بازیابی کے لیے، اسی دوران میرا رابطہ پنجگور کے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے سے ہوا جو اس وقت چلائی ہوئے کارتوس بن چکے تھے اور پنجگور سے انہیں بے دخل کیا تھا، چنانچہ میں اپنے دوست کی مجبوری میں ان کے پاس گیا۔وہاں جاکر جان پہچان ہوا اور خاندانی تعلق دار نکلےبزرگوں کے زمانے سے ایک سلام تھا ان کے خاندان سے، پھر انہوں نے صاف کہاکہ ہم کوشش کریں گے مگر اب ہمارے کال بھی وہ نہیں اٹھاتے، اتنا اندازہ ہوا کہ قوم پرستوں کی طرح یہ لوگ دعوہ نہیں کرتے جتنی حیثیت تھی میرے سامنے رکھ دیا، کوئی جھوٹی تسلی نہیں دی۔
مجبوری ایسی تھی کہ پھر دوبارہ ان کے گھر دستک دینا پڑا، پھر مجلس لمبی چلی تو کچھ باتیں انھوں نے مجھ سے شئیر کیئے
مجھے کہا کہ یار میران آپ طلباء تنظیموں کی سیاست چھوڑ دو، طلباء سیاست میں کچھ نہیں رکھا
میں نے کہا کیسے تو اس پنجگوری نے کہا میں ایک کاروباری بندہ تھا، کیا آفت آئی کہ میں بلوچ نسل کشی کا ذریعہ بن گیا، ہم استعمال ہوئے مگر سوال یہ ہے کہ ہم استعمال کیوں ہوئے؟
کیونکہ بلاوجہ ہمیں غدار قرار دیا گیا ،کبھی گھر پر کفن تو کبھی دھمکی بارے میسجز اور کال۔ آخر بات یہاں آئی کہ مجھ پر حملے ہوئے( میرے مخالف تنظیموں میں جاکے مجھے نقصانات دینا چائتے تھے) جب بات آگے نکل گئی تو پنجگوری نے کہا کہ جب پنجگور میں پہلا قتل بلوچ ہوا، اور وہ بھی سرمچاروں کے ہاتھوں “تو اسی دن اداروں کے دفتر میں مٹھائی بانٹے گئے کہ جنگ اب ختم ہوا ہے ہماری طرف سے، اب خانہ جنگی ہوگی، یہ خود ایک دوسرے کو ماریں گے” (بد بخت بلوچ کا قاتل بلوچ)
اس قصہ کا ذکر اس لیے کیا کہ ایک کامیاب تحریک کو نقصانات کن چیزوں پہ ہوا اور ایسے بہت سارے قصے ہیں۔

“یک مشت پشتون اور منتشر بلوچ”
پشتون تحفظ مومنٹ کو آج دنیا کے پشتون سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی غدار نہیں۔ نہ منظور پشتون نے اسفندیار کو غدار کہا نہ محمود خان کو۔
بلوچوں میں آپ دیکھ لیں غدار آج وہی ہے جو کل ہمارا ہیروتھا، مہراللہ محمدحسنی کو لے لیں ، ایسے بہت سارے بلوچوں کو قتل کرکے آج بندوق ڈال کر ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
کل کاغدار (بی این پی) تھا جو آج بلوچستان کی آواز بنی ہے ۔
غداری کی لقب نے تحریک کو اس قدر نقصانات دئے کہ اب پورا بلوچستان غدار ہے۔

“بلوچستان کے گناہ گار قومپرست”
قوم پرست پارٹیوں کے تجربہ کار سیاستدانوں نے گراونڈ چھوڑ دیا کوئی دوبئی تو کوئی اسلام آباد میں ڈیرہ ڈال دیا اور بلوچستان کو، نوجوان طلباء (بی ایس او آزاد) کے حوالے کردیا۔
بی ایس او آزاد کے دوستوں میں مہارت تھی سوچ کو فروغ دینی کی (آزاد کا کام ہی یہی تھا تبلیغ) مگر ِپھر معلوم نہیں ان کو کیا ہوا، آزاد کے دوست ایک دم قلم کے ساتھ بندوق اپنے کاندھوں میں اٌٹھا کر مسلح تنظیموں سے جوڑ گئے، ہر شہادت پے آزاد کا بیان آتا کے فلاں شہید ہمارا ممبر تھا۔
اب سوال یہ ہیےکہ بلوچستان کن غلط پالیسیوں کے نظر ہوگیا؟
کیا (بی این پی) (این پی) اُس وقت الیکشن میں بآئیکاٹ نہیں کرتے تو کیا آج بلوچستان کے حالات یہ ہوتے یا بہتر ہوتے؟
قومپرست اگر گراونڈ میں موجود ہوتے تو کیا (بی ایس او آزاد) پے کنٹرول نہیں کرسکتے تھے؟
کیا بی ایس او آزاد اپنے موقف(تبلیغ) سے ہٹ سکتا تھا؟ (یا ہٹایا گیا)؟، منظم تنظیم کو اس نہج تک پہنچانے میں کن پالیسی سازوں کہ غلطیاں تھی
کیا آزاد کے دوست اپنے پالیسی میں پبلک سروس کمیشن اور اسمبلی کی سیاست کی بنیاد رکھتے تو کیا آج نام نہاد قومپرستوں کی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوتا؟
کیا بلوچ سنگل پارٹی کی طرف ہم نہیں جاسکتے تھے، کیا یوتھ آج قبائلئیت سے نکل کر فکری بور پر بلوچ کی رہنمائی نہیں کررہاہوتا
بلوچوں کو پاکستانی بلوچستان سے نکل کر پنجاب سندھ افغانستان ایران تک ایک پلیٹ فارم پر تحریک کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس بلوچستان کے ٹکڑے میں ہم آزاد ہو بھی جائے تو دنیا کے دوسرے طاقتور ممالک کیا ہمیں امن و امان سے رہنے دے گے؟

غلطی تھی قوم پرستوں کی جنہوں نے بلوچستان کی سیاست سے کنارہ ہو کراپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔

غلطی تھی آزاد کی پالیسی میں، طالب علموں کو مسلح تنظیموں سے جوڑنا۔
اب (بی ایس او آزاد) اگر گراونڈ میں آئے تو نظریہ کونسا ہوگا، جو دوست جلاوطن ہوئے ہیں کیا وہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آکرمہراللہ کی طرح سرنڈر کریں گے؟
تنظیم کس کے حوالے ہوگا، سربراہ کون ہوگا، کیا بلوچستان میں اب ایسے سٹوڈنٹ رہنماء بچے ہیں جو آزاد کی کمان ہاتھ میں لے کر کوئی سازش نہ کریں اور پرامن سیاسی جدوجہد کی تبلیغ کریں۔
ہاں آخر میں ایک سوال آزاد کے دوستوں سے کیا بی ایس او آزاد کے نعرے اب تبدیل ہونگے؟
“جو مینگل کا یار ہیں غدار ہے”
“جو مالک کا حامی ہے وہ حرامی ہے”

سبزبات بلوچستان
بلوچستان کے راہ پر چلنے والے ہر گلاب کو سرخ سلام!

(سوال جواب بحث مباحثہ کے بعد بی ایس او آزاد کی پابندی پے تحریک چلائی جائے)

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

فلاحی تنظیمیں ،بلوچستان اور دردوار

تحریر: بسم اللہ سمالانی   غیرسرکاری تنظیم یا این جی او قانونی حیثیت ...

error: Content is protected !!