بنیادی صفحہ / اردو / ایبولا، کرونا اور بلوچستان

ایبولا، کرونا اور بلوچستان

تحریر:مجاہد بلوچ
2013 میں مغربی افریقہ کے چند ممالک میں ایبولا وائرس پھیلا جس سے مغربی افریقی ممالک سینٹ لوسیا، گنی بسائو ، ڈی آر سی ( ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو ) سمیت دیگر کئی ممالک متاثر ہوئے ایبولا وائرس کے پھیلائو کے بعد مغربی افریقہ کے ان ممالک کو مختلف جن چیلنجز کا سامنا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ ایک جانب اس وائرس کے پھیلنے کی شرح کافی تیز تھی تو دوسری جانب مغربی افریقہ کے ان ممالک میں شرح خواندگی کم ہونے کی وجہ سے عوامی آگاہی کا مسئلہ درپیش تھا اس وائرس سے اموات کی شرح کافی زیادہ تھی ایسے میں مغربی افریقہ کے ان ممالک میں قبائلی سربراہاں، مقامی لیڈر شپ و سیاسی کارکن سامنے آئے اور اس موذی مرض کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کیلئے انتہائی موثر کردار ادا کیا ان قبائلی سربراہاں نے مغربی افریقہ کے جنگلات میں آباد قبائل کے اجتماعات بلائے ، شہری علاقوں سے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ان جنگلات میں لے جاکر قبائلیوں کو ان اجتماعات میں ایبولا وائرس اور اس کے احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی دی گئی، دور دراز کے علاقوں میں طبعی سہولیات کے فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے لگے، احتیاطی تدبیر کے طور پر با اثر قبائلی رہنما و مقامی سیاسی کارکن ایبولا سے ہونے والے اموات کے بعد دفن و تدفین کے مراحل کی نگرانی کرتے رہے تاکہ اس موذی مرض کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ 
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی افریقہ کے ان ممالک میں ایبولا وائرس کے ممکنہ نقصانات کو حد درجہ کم کیا گیا اور دیگر ممالک میں پھیلنے سے اس موذی مرض کو حد درجہ روک دیا گیا بعد ازاں اقوام متحدہ نے بھی اپنے ایک رپورٹ میں مغربی افریقہ کے قبائلی سربراہاں و مقامی لیڈر شپ کی ایبولا وائرس کے روک تھام کیلئے کوششوں کو سراہا تھا۔
اب آتے ہیں حالیہ کرونا وائرس کے پھیلائو اور اس سے پیدا ہونے والی عوامی بے چینی پر، چین سے نمودار ہونے والا حالیہ کرونا وائرس کووڈ-19 پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے، ترقی یافتہ یورپین ممالک اس وائرس کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں ، دنیا کا واحد سپر پاور امریکہ ہاتھ کھڑا کرچکا ہے، بلوچستان سے متصل ایران میں یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اس وقت ایران متاثرہ ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے ، ایران، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر زائرین کی شکل میں، ایرانی ڈیزل سپلائیرز کی شکل میں یا دیگر سلسلوں میں لوگوں کا بلوچستان آنا جانا رہتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ بلوچستان حکومت نے ایران سے آنے والے زائرین کیلئے سرحد پر وائرس کی تشخیص کیلئے اسکیننگ یا قرنطینہ میں علاج معالجے کے مناسب انتظامات نہیں کئے ہیں، کئی مقامیوں مسافر بسوں کو زبردستی روک کر مقامی کوگوں کو ایران سے آنے والے مسافروں کے ساتھ ایسے کیمپز رکھا گیا ہے جہاں کوئی بنیادی سہولت نہیں ہے جس کے سبب ایران سے مختلف لوگوں کا خفیہ راستوں سے بلوچستان میں داخل ہونے کی افواہیں بھی گردش کررہی ہیں ایسے میں بلوچستان کے لوگوں میں اس وائرس کو لیکر لشدید بے چینی پائی جاتی ہے ، بلوچستان کو لگ بھگ انہی چیلنجز کا سامنا ہے جن چیلنجز کا سامنا ایبولا وائرس کے بعد مغربی افریقہ کے ممالک کو تھا  بلوچستان میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے ، طبعی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے جس کے سبب بلوچستان کے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ایسی صورتحال میں بجائے اس کے کہ مغربی افریقی ممالک کے قبائلی سربراہاں اور مقامی لیڈر شپ کی طرح بلوچستان کے قبائلی سربراہاں اور مقامی لیڈر شپ و سیاسی کارکن آگے آجاتے، عوامی آگاہی و احتیاطی تدابیر کیلئے موثر مہم  چلائے جاتے عوام کو اس مرض کے علامات و احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جاتا ، دور دراز کے علاقوں میں طبعی سہولیات، جراثیم کش ادویات و دیگر حفاظتی ساز و سامان کی دستیابی کو یقینی بنایا جاتا تاکہ اس موذی مرض کے ممکنہ آمد کی صورت میں اس کے نقصانات کو کم سے کم کا جاسکے لیکن بلوچستان کے قبائلی سربراہ یا مقامی لیڈر شپ اسمبلی کی فلور پر کھڑے ہوکر اس موذی مرض کو لیکر جگت بازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یا پھر حفاظتی تدبیر اپنانے والوں پر طنزیہ جملے کستے نظر آتے ہیں جو کہ انتہائی مایوس کن اور غیر سنجیدہ رویہ ہے ایسے میں بلوچستان میں موجود سنجیدہ سیاسی کارکنوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کے اندر موجود رہیں ،احتیاطی تدابیر کے متعلق عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دیں، دور دراز کے علاقوں میں جراثیم کش ادویات و طبعی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں کریں، محکمہ صحت کے ذمہ داران سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ اس موذی مرض کے ممکنہ آمد کی صورت میں اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

فلاحی تنظیمیں ،بلوچستان اور دردوار

تحریر: بسم اللہ سمالانی   غیرسرکاری تنظیم یا این جی او قانونی حیثیت ...

بلوچستان حکومت اب آفسر شاہی کے رحم و کرم پے ہے، وزیراعلی بلوچستان چیف سیکریٹری کی سربراہی میں بننے والے پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن واپس لے , نیشنل پارٹی

بلوچستان حکومت اب آفسر شاہی کے رحم و کرم پے ہے، وزیراعلی ...

کوئٹہ کورونا وائرس اپڈیٹ

کوئٹہ-کورونا وائرس اپڈیٹ مورخہ 06اپریل2020 سکریننگ کئے گئے لوگوں کی کل تعداد:3395 ...

error: Content is protected !!