بنیادی صفحہ / اردو / کرونا، بدقسمت بلوچستان میں

کرونا، بدقسمت بلوچستان میں

تحریر عاطف رودینی بلوچ

بلوچستان کی قدرتی وسائل، معدنیات جغرافیائی اہمیت اور خوبصورتی سب کو پسند ہے۔ ہر کوئی انہیں حاصل کرنے کی خواہش دل میں زندہ کر رکھا ہے۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال و امیر خطہ ہونے کے باوجود یہاں کے باسی بدتر حالات گزار رہے ہیں غذائی قلت سے اموات بے روزگاری سے تنگ افراد کی خود خوشی ٹارگٹ کلنگ دھماکے کینسر جیسے بیماریوں کے اثرات قاتل شاہراہوں میں ہونے والے حادثات اور بہت سے واقعات میں روزانہ سیکنڑوں لاشیں اٹھاتے ہیں۔ قدرتی وسائل سیندک ریکوڈک یہاں کی قدرتی گیس سونا چاندی کرومائیٹ کوئلہ سے حکومت اربوں ڈالر تو کما رہی ہے مگر ان واقعات کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے واقعات میں کمی تو نہیں البتہ تیزی ضرور نظر آ رہی ہے جہاں بلوچستان کے وسائل کو حاصل کرنے کے لیے دوڑے لگی ہے تو وہاں ان واقعات پر کوئی اقدام اٹھانا تو دور کوئی دیکھنے و سننے تک تیار نہیں۔ آج تک پچھلے کئی حکومتوں میں صوبائی ہو یا وفاقی، بلوچستان کیلئے بہتر پالیسی تیار نہیں کرسکی جس سے حقیقی معنوں میں بلوچستان کے مسئلے حل ہوسکے۔ بلوچستان اس وقت بہت سے مسائل کا شکار ہیں پچھلے حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
بلوچستان کے بے شمار وسائل کے ساتھ مسائل بھی بے شمار ہیں مگر اس وقت بلوچستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کیلئے سب سے بڑا اور اہم خطرہ کرونا وائرس کا ہے کرونا وائرس چند عرصہ پہلے چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا۔ شروع شروع میں کچھ لوگ اسی اللّٰہ کا عذاب کا نام دے رہے تھے تو کچھ لوگ اسے بائیولوجیکل وار ثابت کرنے کی کوشش میں۔ اس وائرس نے بہت کم وقت میں پورے چائنہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کئی ہزاروں لوگوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا یہ وائرس صرف چائنہ تک محدود نہیں رہا پھیلتا گیا۔ اس وقت یہ وائرس 146 ممالک و چھ براعظموں تک پھیل گیا ہے لاکھوں افراد اس سے متاثر ہو گئے ہیں اسکا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو یہ وائرس مزید پھیلتا جارہا ہے چائنہ کے بعد وائرس نے ایران اٹلی برطانیہ اور بہت سے ممالک کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے یہ وائرس بلوچستان تک پہنچ گیا بلوچستان میں پہلا کیس چند دن پہلے سامنے آیا تھا مگر اب اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اچانک اور تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے پورے ملک میں اس وقت سو سے بھی زائد کیسز سامنے آگئے ہیں۔
ایران اور افغانستان کے بارڈر بلوچستان سے ملتے ہیں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو چاہیے تھا کہ کرونا کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتا۔ مگر بدقسمتی سے صرف تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے علاوہ صرف باتوں اور دعووں تک محدود رہے۔ البتہ بلوچستان کے عوام کو صوبائی حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں پر بہت تشویش ہے۔ چمن بارڈر اور تفتان بارڈر پر سہولیات نا ہونے کے برابر ہے کرونا کو روکنے کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے خیمہ بستی بنایا جس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف کا کرونا کے خاتمے کے لیے امدادی فنڈز کا اعلان کرنے کے بعد حکومت نے زائرین جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں سب کو کوئٹہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا گیا عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں نے بھی اس پر تحفظات پیش کی۔ بارڈر سے سیکنڑوں کلومیٹر دور کوئٹہ کے ہسپتالوں میں زائرین کو رکھنا بلوچستان بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہاں کے ہسپتالوں میں زکام جیسے بیماریوں کے علاج کے بھی دوائی نہیں کرونا وائرس کو چیک کرنے والے بھی کٹس بھی ختم ہو گئی ہے۔ بڑے ڈیلرز ماسک کو بھی ذخیرہ اندوز کرکے بلیک میں پیسہ کمانے کا سوچھ رہے ہیں کیا حکومت کا یہ فیصلہ بھی بڑے ڈیلز کے طرح آئی ایف کے فنڈز سے پیسے کمانا تو نہیں..؟ پولیو جیسے بیماری جو پوری دنیا سے بہت پہلے ختم ہو چکا ہے ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور حکومت کی کوششوں کے باوجود بھی بلوچستان ابھی تک پولیو پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہیں تو پھر کرونا جسکا علاج بھی ابھی تک نہیں اسکو کنٹرول کیسے کریگا۔۔؟ پچھلے حکومتوں نے تو کوئی بہتر پالیسی نہیں دی موجودہ حکومت کی یہ پالیسی بہتر نہیں بلکہ بدتر ثابت ہونے میں شاہد پہلی نمبر پر ہوگا۔ وفاقی حکومت تو بلوچستان کے ہر مسئلہ کو نظر انداز کررہا ہے وزیراعظم صاحب کی بلوچستان سے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم نے بلوچستان کا دورہ ہی صرف ایک بار کیا ہے۔ اب بھی اگر وفاقی اور صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں ہوتی، بلوچستان میں کرونا کی روک تھام کیلئے کوئی بہتر پالیسی نہیں بناتی تو اس کے نتائج بلوچستان سمیت پورے ملک کیلئے بھیانک ہونگے اور بلوچستان میں اٹھانے والے لاشوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا روز کے دھماکوں ٹارگٹ کلنگ قاتل شاہراہوں پر حادثات مسخ شدہ اور کینسر سے مرنے والوں کے ساتھ کرونا سے مرنے والے ہزاروں لاشیں اٹھائے گے

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!