بنیادی صفحہ / اردو / بی ایس او و بی این پی کے زیر اہتمام بلوچ کلچر ڈے 2020

بی ایس او و بی این پی کے زیر اہتمام بلوچ کلچر ڈے 2020

تحریر: گھوربلوچ

تہذیبِ تمدن و ثقافت زندہ جاویداں قوموں کی پہچان ہوتی ہے جسکی بنیاد پر قومیں دنیا میں اپنی تشخص و بقاء کی جنگ لڑتے ہیں۔ یورپ اوربالخصوص برصغیر میں دود و ربیدگ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ جنوبی ایشیائی قومیں اپنی ثقافت کو لیکر بہت زیادہ سنجیدہ نظر آتے ہیں بلکہ افریقی ممالک میں کلچر کو مذہب کے برابرمقام دیاجاتاہے جو اقوام اپنی نسلی بقا یا تشخص کو خطرے میں پاتے ہیں یا مسخ کی خوف انہیں اضطراب میں ڈالتاہے تو ایسے میں ثقافت کو انتہا درجے تک پروموٹ کرنیکی کوشش کرتے ہیں ۔
بلوچستان میں بلوچ قوم اپنی شناخت کو خطرے میں دیکھ کرباقاعدہ طور پرہر سال ایک مخصوص دن 2 مارچ کو بلوچ قومی ثقافتی دن مناتے ہیں یہ دن پیرو بزرگ نوجوان اور خواتین کے لۓ کسی تہوار سے کم نھیں ہوتا یوں سمجھ لیں کہ سال میں تیسری عید منائی جاتی ہے۔ تمام طلبہ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، سوشل ویلفیئر تنظیمیں اور بلوچ سول سوسائٹی باقاعدہ طور پر پروگرام تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن اس سال تیسری تہوار بلوچ کلچر ڈے کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نےبلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر جامعہ بلوچستان کے ایکسپو سینٹر میں ایک منفرد بلکہ حقیقی کلچر ڈے کے طورپر منائی ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی گزشتہ کئی سالوں سے ایسے پروگراموں کی زینت بننےسے محروم رہی ہے اسکی وجہ یونیورسٹی انتظامیہ کی سیاسی سرکلزو طلبہ سرگرمیوں پر پابندی و دیگر متنازعہ کرداروں کی موجودگی رہی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی خواتین ہراسگی اسکینڈل و دیگر غیر متعلقہ کرداروں کی موجودگی کی وجہ سے اپنا ساکھ بہت حد تک کھوچکی ہے لیکن اس سال بی ایس او کے پروگراموں بالخصوص یوم تاسیس و کلچرڈے کے انعقاد نے کسی حد تک یونیورسٹی کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں مثبت کردار اداکیاہے گوکہ جن وجوہات کی بناپر جامعہ کے تعلیمی پوشاک ، دیوار،درس وتدریس پر داغ و دھبہ لگا وہ ایسے درجنوں پروگراموں سے مٹنے والا نہیں لیکن بلوچ کلچر پروگرام میں یونیورسٹی انتظامیہ، بلوچ آفیسران ، طلبہ و سیاسی کرداروں کی شمولیت نے کسی حد تک کالک کو مٹانے کی ایک چھوٹی کوشش ضرور کی ہے خدا کرے یہ بدنما داغ جلد مٹ سکیں اور ہم اپنی سب سے بڑی قدیم جامعہ سے تعلیم کے چراغ کو روشن ہوتا دیکھ سکیں۔
ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والا بلوچ دود و ربیدگ اپنے طریقے سے منفرد اور بہترین پروگرام تھا کیوں کہ ہمیشہ سے ایسے پروگراموں کو سیاسی یا پھر تفریح کے طورپرلیا جاتاہے لیکن مزکورہ بلوچ کلچرڈے کی اہمیت اس لۓ زیادہ پائی گئی کہ ایکسپو سینٹر نے اس مرتبہ کلچرڈے کے نام پرعلم و ادب کا لبادہ اوڑھ لیاتھا۔ کلچر آئیٹمز کے ساتھ ساتھ بک اسٹالز کا قیام اپنے نوعیت کا بہترین انتخاب تھا۔ کتب اسٹالز کا قیام کتاب کلچر کے ترویج کے لۓ بہتر ثابت ھوگا۔ ایسے پروگراموں میں جہاں عوام کی بھیڑ موجود ھو کتب کلچر جیسے اسٹال لگا کرموجودہ دور کے تقاضوں سے نمٹا جاسکتاہے گوکہ موجودہ صدی ٹیکنالوجی کی صدی ھے نوجوان نسل سوشل میڈیا کو کتب بینی سے زیادہ ترجیح دیتے ھیں جس سےمطالعہ و کتب دوستی کو پروان چڑھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
میں وش دونگا بی ایس او کے تفکراتی خیال کے رہنماؤں و نظریاتی کامریڈز کو جنکی کاوشوں کی بدولت جامعہ بلوچستان میں علم و ادب کی محفلیں، سیاسی سرکلز،کتب اسٹالزاور تعلیمی رونقیں ایک مرتبہ پھر بحال ہونےکی کی امید دلادی ہے۔ دل کو تسلی اور لب کو لکھنے کے لۓ الفاظ اس لۓ ملے کہ مزکورہ کلچر پروگرام روایت سے ہٹ کر ایک کتب میلہ کی تصویر پیش کر رہی تھی تو امید کی کرن سمجھکر کچھ لکھنے کی جستجو نے مجھےاپنے آغوش میں لیااور چند الفاظ لکھ ڈالا۔

تشکر

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بلوچ قوم حق خودارادیت

تحریر:کامریڈ رضوان بلوچ   چار اپریل 1918کوہلو سے چار سگے بهائی میر ...

احساس برتری

تحریر: صابر محمد حسنی   انسان اس روۓ زمین پر قدم رکھنے ...

 فنگر پرنٹنگ سے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ تک فارینسک سائنس کا طویل سفر تک

تحریر: ڈاکٹر افتخار بلوچ ڈی این اے ٹیسٹ کی اصطلاح آج کل ...

بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش، نقصانات فوائد

تحریر:شکور بلوچ آج سے 55سال پہلے 1962 میں جے سی لائک نے ...

سریاب میں طویل لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کے حوالے سے ایم این اے آغاحسن کا متعلقہ آفیسران سے ملاقاات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات، ممبر قومی اسمبلی آغا حسن ...

error: Content is protected !!