ایک نوجوان اور بوڑھے آدمی کی محبت

Spread the love

تحریر: نعیم قذافی

نئ تحقیق کے مطابق عصر حاضر کے نوجوانوں میں بارہ سے چودہ سال کی عمر میں جنسیت ابھرتی ہے اس دوران میں وہ بہت طاقتور اور بے مہار بن جاتی ہے ایک دوسری تحقیق بتاتی ہے کہ ہر مرد کم از کم ہر تین منٹ بعد جنس کے بارے میں سوچتا ہے جبکہ عورتوں کا معاملہ قدرے مختلف ہیں وہ ہر چھ منٹ بعد سوچتی ہیں۔

ایک نوجوان مرد وزن میں جنسی عمل اس لئے زیادہ ہوتا ہے کہ اب نئ نئ اس کی کیفیتِ بلوغت کی ابتدا ہو چکی ہوتی ہے اور اس میں توانائیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں جس کی بدولت وہ یا تو بے قابو ہو کر کوئی قبیح یا گھٹیا حرکت کر بیٹھتا ہے یا پھر عقل و ضبط سے اس پر قابو پا لیتا ہے یوں وہ خود کو ضیاع ِزات سے بچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے.

یہ وہ نوجوان کر سکتے ہیں جن کو علم ہوتا ہیں کہ مستقلاً آگہی میں رہا جائے، اِسی میں آدمی اپنی بھاگیں تھام سکتا ہے بلکہ بھاگیں تھامنے کا دستور یا طریقہ بھی یہی ہے، وگرنہ وہ نفس کی جھال میں بری طرح پھنس جاتا ہے.

اسی سلسلے میں گرو رجنیش کہتا ہے کہ "اگر تم جنس کو دباؤ نہیں، اگر تم اس سے آگاہ ہو جاؤ تو جنسی توانائی محبت میں ڈھل سکتی ہے، ہمدردی میں ڈھل سکتی ہے”۔

انسان جب باون سال کو پہنچتا ہے تو جنسیت زائل ہونے لگتی ہے اور اس عمر میں اسے ایک بوڑھا آدمی تصور کیا جاتا ہے پھر وہی بوڑھا آدمی بلکل مختلف قسم کی محبت کا، ہمدردی کا حامل ہوتا ہے اور اس کو ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس کی محبت میں اب ہوس باقی نہیں رہتی، خواہش نہیں رہتی۔ سب کچھ گذشتہ عمر کے ساتھ چل کر ختم ہو جاتا ہے، پہلی جیسی توانائی نہیں رہتی، پہلی جیسی اب قوت و طاقت نہیں رہتی، پہلی جیسی اب جوانی نہیں رہتی اس لئے کہ اس کی محبت کو خالص پن اور معصومیت سے مزین ہونا پڑے گا.

یہ عمل اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ ایک آدمی جو باون سال کا ہو جاتا ہے اس لئے کہ وہ اور اس کی محبت، ہمدردی کا حامل ہوتا ہے، اس میں ہوس باقی نہیں رہتی، خواہش باقی نہیں رہتی بلکہ پچھلے عمل سے یہ عمل انتہائی غور طلب ہوتا ہے کہ ایک جوان جو بارہ سے چودہ یا پھر وہ اٹھارہ سالہ نوجوان ہو اور وہ اسی عمر میں نفس پر عبور حاصل کرے تو یہ عمل ہرگز کسی غنیمت اور کمال سے کم نہیں ہو سکتا بلکہ یوں کہیئے کہ وہ نعمت کے مترادف ہو گا۔

یہ انسان کے جذبات، احساسات اور خواہشات کا مرحلہ ہوتا ہے، موج مستی کا مرحلہ ہوتا ہے، اب تو مزید بالغ ہونے اور ارتقاء پزیر کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں انسان پر جذبات ہمیشہ حاوی رہتے ہیں اسی دوران میں ایک جوان کا اپنے آپ کا خیال رکھئے کا عمل بہ نسبت ایک باون سالہ بوڑھے آدمی سے کئ درجہ بہتر ہے۔

ایک گرم خون نوجوان اور ایک بوڑھے آدمی کی محبت میں محض ان کی محبت کا فعلی اور حقیقی (خالص) ہونے کا فرق ہوتا ہے جو ان کی اپنی اپنی عمر پر منحصر ہے۔

آخر میں، میں آپ سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہوں کہ جنسیت کا غائب ہونے پر تم جس ہمدرد والی محبت کا اظہار کرتے ہو، وہ فعلی محبت ہے اس کے برعکس جنسیت کے دوران اگر تم ہمدرد والی محبت کا اظہار کرو تو وہ حقیقی محبت کا منطقی ثبوت ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!