برادرکُش قوم

Spread the love

تحریر : عمران لہڑی

تاریخ یہ کبھی نہیں بول پائی گی کہ دنیا میں ایک ایسا قوم بھی تھا جو ایک دوسرے کے بازو کے کاٹنے کو بہادری سمجھتے تھے. ان کا لیڈر ہمیشہ اس تگ و دو میں تھا کہ کہی دو کو لڑواؤں پھر اپنی لیڈری کی داد بمائے زر کے ساتھ ان سے وصول کروں. اتنا جاہل قوم کہ اپنے قاتل کو اپنا خیر خواہ, ان کو دھوکہ میں ڈالنے والے کو اپنا ہمدرد, غلط عقائد میں گمراہ کرنے والے کو اپنا عالم, حھوٹ اور فریب بھولنے والے کو اپنا دانشور, اپنے نوجوانوں کے قاتل کو میر, معتبر, اپنے ہی قوم کو غلام رکھنے والے نواب سردار کو اپنا تاج سمجھتے تھے. جی ہاں بلوچ قوم بہادر قوم ہے. میں قسمیہ طور پر کہتا ہوں اگر اس حالت میں بلوچ قوم بہادر قوم ہے تو دنیا میں کوئی بزدل نہیں. ہاں نہ اگر ہم بہادری کو بزدلی میں تبدیل کرتے ہیں تو پھر بزدلی کا وجود ہی ختم ہوتا ہے. ہے نہ بہادر قوم….

انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے. آج بلوچ قوم اپنی آپس کی لڑائی میں اپنے نوجوانوں کو ضائع کر رہے ہیں لیکن ہم اس قوم کی وجود کو بچانے کیلیے ایک دستار باندھ کر جشن منا رہے ہیں. آج کتنے نوجوان اس خونخوار قبائلی لڑائی میں لقمہ اجل بن گئے. آج کتنے نوجوان اس جنگ سے اپنے گھروں میں محصور ہیں. آج کتنے وسائل اس بے مقصد جنگ میں خرچ ہوئے ہیں. کتنے گھر اجڑ گئے. کتنے مائیں اپنی لخت جگر کے خون ان سرداروں, نوابوں, قتل کرنے کے ٹیکیداروں کو ننگی سر بد دعا دے رہی ہے. آخر یہ سلسلہ کیوں نہیں رکتا کہ دو قبائل ایک دوسرے کے نوجوانوں کو چن چن کر قتل کرتے ہیں پھر فیصلہ ہوتا ہے کچھ دن گزرنے کے بعد پھر دو قبائل آپس میں لڑ پڑتے ہیں.

ان جاہل بےوقوف لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اس حالت میں آپ کیسے بلوچ قوم کی وجود کو بچا سکتے ہو. ایک دن کی دستار پہنے سے جشن منانے سے اس قوم کی وجود نہیں بچ سکتی. آج یہ قوم ایک مردم کش قوم بن چکی ہے. آج اس قوم کی باسی دو ٹکے کیلیے اپنے بھائی کو قتل کرواتا ہے. آج یہ قوم ایک دوسرے کو بڑی فخر سے قتل کر رہے ہیں. یہ حالت ہے اس قوم کی رات کو اپنے بھائی کے ڈر سے پیرا دیتا ہے پھر دن کو پسٹل کمر پر باندھ کر خوف میں مبتلا زندگی بسر کرتا ہے. کس سے خوف… ایک دوسرے سے خوف… اپنے بھائی کے گولی کا ڈر…. ہے نہ برادرکُش قوم. اس قوم کی تو یہ حالت ہیں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں پھر راضی ہوتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں. اس طرح اس قوم کی فرزند ضائع ہو رہے ہیں. آج تک بیشمار نوجوان اس خونی دیو کا لقمہ بن کر ان کا نام و نشان تک مٹ گیا. ان کے وجود کا ان کے والدین کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں کہ یہ لوگ بھی زمین پر پیدا ہوئے تھے. آج جو لیڈر, قومپرست رہنما بلوچ کلچر ڈے منا رہا ہے سفید پگڑی اپنے سر پر رکھا ہوا ہے اس سے کہہ دو یہ قوم کی وجود کو قبائلی جنگ سے خطرہ ہے. اس قوم کی وجود کو منشیات سے خطرہ ہے. ایک دن کا بلوچت بنو, آؤ ان مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرو….. ورنہ ایک دھوکہ باز کے نام سے یاد ہوجاؤ گے

آج کلچر ڈے میں جتنے نوجوان جوش جزبے سے بلوچ کلچر دے منا رہے تھے حالات کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو آنے والے کلچر ڈے تک اس خونی دیو (قبائلی جنگ) شکار نہ کرے. اللہ ہم سب کو اس قاتل سے بچائے. آمین…. لیکن حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے. اگر اس قوم کی یہ حالت رہی تو ضرور ہمارے نوجوان اس طرح ضائع ہوتے رہیں گے. اس جنگ میں صرف ایک خاندان کی تبائی نہیں بلکہ پوری قبائل کے تبائی ہے ایسے جنگ میں قبائل کے سارے لوگ بچے سے لیکر بوڑھے تک سب مرد و زن نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں. ڈر اور خوف کا بھوت ہر وقت ان کے گلیوں اور گھروں میں گھومتا رہتا ہے. ایسی حالت میں اس قوم سے نہ کوئی تعلیم یافتہ ڈاکٹر, انجینئر, استاد, دانشور بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی باشعور, باہمت, با صلاحیت لیڈر.

کاش آج اس کلچر ڈے پر خوبصوت کلچر زیب تن کرتے ہوئے جشن منانے والے سارے نوجوان, بوڑھے, بچے, عورت یہ عہد اور اپنے لیڈر, رہنما, خیر خواہ, ہمدرد, قومی ترجمان کو یہ پیغام دیتے کہ ہمارے کلچر ڈے منانے کا مقصد اس قوم کی وجود کو بچانے کیلیے قبائلی جنگوں کا خاتمہ, نشہ اور منشیات فروشوں کے خلاف سیاسی جنگ, تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ کرنا ہے. ان مسائل میں جو کردار ادا نہیں کرتا وہ بلوچ قوم کا کبھی خیر خواہ, ہمدرد, قومی لیڈرز نہیں بن سکتا. تاریخ میں اسے ایک فریبی اور دھوکہ باز سے یاد کیا جائے گا…..

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!