کلچر ڈے یا نمائش ڈے

Spread the love

تحریر:کامران بنگزئی

انسانی ترقی جغرافیائی تبدیلی کے باعث اقوام اپنے تہذیب تمدن اور شناخت سے دور ہوتے جارہے ہے ظاہری شکل و بناوٹ کے ساتھ ساتھ فطری اور قومی لحاظ سے بھی دوریاں بڑھ گئے ہیں وہ وقت دور نہیں کہ انسان کو اس کے تہذیب اور شناخت اور آبا و اجداد کے بار میں جاننے لے لیے عجائب گھر جانا ہوگا ہمارے ہاں بھی ایک ایسا دن منانا  کچھ سالوں سے شروع ہوا ہے جسے دو مارچ یعنی بلوچ کلچر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اسی طرح دیگر اقوام بھی اپنے کلچر کو منانے کے لیے سال میں ایک دن مناتے ہیں
بلوچ کلچر ڈے کو جن طلباء نے شاید کچھ سال پہلے منایا تھا شعور آگہی اور جس وجہ اور سوچ سے لیکن آج کل وہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہر سال مختلف اور عجیب طریقے دیکھنے کو مل رہے ہے 20 میٹر کا دستار ایک بڑا بلوچی چادر اور ایک واسکٹ کے لیے آپ کو ایک دو مہینے پہلے جہدوجہد کرنا ہوگا کیونکہ ان کے بغیر آپ تصویر میں بلوچ نظر نہیں آئینگے اور ساتھ میں ایک پرانا ڈھاڈری بندوق یا کوئی تلوار ہوں تو آپ کے تصویر میں چار چاند لگ جائینگے اس کا انعقاد مختلف جگہوں پر کیا جائے گا تا کہ سب سے اہم جگہ ہمارے صوبے کی واحد درسگاہ جہاں سے اس سال یہاں کے اقوام کا جنازہ اٹھ گیا تھا تب یہی نمائشی لوگ دور دور سے دیکھائی نہیں دیتے تھے دوسری اہم جگہ ایک پرائیوٹ شاپنگ مال ہوگا جہاں کچھ دکھاوے اور نشہ اور دھول چاپ کو کلچر ڈے کہینگے اس کے بعد یہ 20 میٹر والا ایک شناخت گھر کے کسی اسٹور میں ہمیشہ کے لیے پڑا ہوگا اس دفعہ تو ٹک ٹوک اسٹارز کے پوسٹر لگے ہوئے دیکھنے کو  مل رہے  ہیں کہ وہ ہمیں سکھائینگے کہ ہمارا کلچر کیا ہیں ہمارے سینئیر طلباء نے یہ دن اس لیے منسوب کیا تھا؟ کہ ہم خود کو دنیا کے سامنے تماشہ بنائے کہ یہ دن ہم اس لیے مناتے ہے جہاں صرف نمائش ہیں جہاں کردار کی اور قول وعمل کی کوئی درس نہیں ہمارے اکابرین نے یہ دستار صرف ایک دن کے لیے نہیں پہنے انہوں نے اپنے عمل و قول اور بہادری اور کردار سے ثابت کیا کہ وہ ہر طرح سے بلوچ تھے کلچر ڈے کے اس طریقے اور نمائش سے بہت سے شعوری طلباء اور لوگوں میں اس دفعہ کافی دوری پایا جاتا ہے کیونکہ اگر کلچر میں صرف نمائش ہوگا تو ایک فضول دن تصور کیا جاہے گا کلچر ڈے تب ایک قوم کی پہچان بنتاہے جہاں نماہش کے ساتھ ساتھ رہنمائی کردار سازی علم و ادب اور اپنے کردار اور عمل کی بہتری کی کوشش ہوں جہاں اپنے مستقبل کے فکر ہوں جہاں اپنے خطے کی درد ہوں جہاں چھوٹے بڑوں کی عزت کی درس ہوں جہاں صالح شاد، منظور بلوچ، لیاقت سنی جیسے استادوں شاہ محمد جیسے تاریخ دانوں کی درس ہوں پھر شاید ہم اس دن کو 2 مارچ بلوچ کلچر ڈے کہہ سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!