راجی دیوان اور آزادی مارچ

Spread the love

تحریر:ماریہ تاج بلوچ

عورت کے مسائل کو اکثر و بیشتر ہر جگہ کسی نہ کسی صورت اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔عورتوں کی تحریکیں ہر ملک اور خطے میں اٹھتی ہوئی نظر آئی ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ لیکن بلوچ خواتین کے مسائل پہ با مشکل بہت کم بات کی جاتی ہے یاانہیں دبایا اور چپھایا جاتا ہے، جیسے کہ جنسی عدم مساوات، غیرت کے نام پر قتل، زبردستی اور کم عمری کی شادیاں، سیاسیات اور سماجی اداروں میں جگہ نا دینا، فیصلہ سازی سے دور رکھنا اور بہت سے بنیادی حقوق سے انہیں محروم رکھا جاتا ہے ۔ عام علاقوں میں رہنے والے بلوچ عورتوں کو اپنے حقوق کا بھی علم نہیں ہے وہ ہر ذلت و دکھ درد اور تکلیف کو اپنی قسمت سمجھتی ہیں ۔ بلوچ عورت کو لکڑیاں اور گھاس کاٹنے کی اجازت ہے، پانی کے بڑے مٹکے اٹھا کر پانی لانے کی اجازت ہے، لیکن پڑھائی کی اجازت نہیں دی جاتی، شاہد ہی وہ لڑکیاں پڑھ لکھ جاتی ہیں جن کے گھروں کے مرد یا تو اتنی دولت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ اپنے بیٹیوں کی پڑھائی کا بوجھ بھی برداشت کر سکیں؛ یا تو وہ مرد اپنی عورتوں کے پڑھائی کے حق میں ہوں ۔ SDGs کا گول نمبر 5 جو جنسی مساوات سے متعلق ہے، بلوچستان میں اس کا ایک ٹارگٹ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں لڑکیوں کا مسئلہ تھا اسے بھی دبایا گیا جو ایک جرم ہے۔ یہاں غیرت کے نام پرآج تک صرف عورت قتل ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں کوئٹہ میں طلبہ، طالبات پر تشدد کر کے گرفتار کیا گیا۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرناہر شہری کا حق ہے اور یقیناً عورت بھی ایک انسان اور ریاست کا شہری ہے۔

سال 2020 میں عورت آزادی مارچ کے حوالے سے چند سماجی کارکنان نے "راجی دیوان” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے جہاں بلوچ عورتیں اپنے مسائل کو اجاگر کرسکیں گی. راجی دیوان کانظریہ عورت آزادی مارچ والے لبرلز سے بہت ہی مختلف ہے، بات کرنے پر اُن کارکنان نے بتایا کہ ہمارا مسئلہ "اپنا کھانا خود گرم کرو یا اپنے موزے خود دھو لو” نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ تو ابھی تک عورت کے لئے معاشی خودمختاری، صحت، غذائی اجناس کی قلت، کم عمری میں شادی اوروہ ثقافتی رکاوٹیں ہیں جنہوں نے ہمیں آپس میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے، ہمیں توان سے آزادی چاہئیے۔ ہمیں مرد سے آزادی نہیں چائیے ہم اپنے مرد کا کھانا بھی گرم کرینگے۔ راجی نے یہ قدم خصوصاً بلوچ خواتین کے لیےاٹھایا ہے۔” انہوں نےمزید اس بات کی وضاحت کی کہ "راجی دیوان کا قیام صرف عورت آزادی مارچ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل عمل ہو گا۔ اس عمل میں تمام بلوچ عورتوں کو یکجا ہونا پڑے گا، مردوں کو اپنی عورتوں کے اور عورتوں کو اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چلنا پڑے گا، تبھی قوم اپنے ترقی کے راستے طے کر پائیں گا۔ "

اگر ابھی بھی ان مسائل پر بات نہ کی گئی اور ان کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ہمارا مستقبل مزید تاریکیوں میں چلا جائے گا۔روشن مستقبل کے لئے ہمیں ان مسائل پہ بات کرنی چائیے اور ان کو حل کرنے کی کوشش ک جائے . ان تمام امور پر مرد حضرات کا بھی ایک کردار ہے اگر وہ یہ سب ادا کریں تو یہ مسائل حل ہوں گے.

آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ ہمیں آزادی باپ, بھائی یا شوہر سے نہیں چاہیئے بلکہ ہمیں ان فرسودہ زنجیروں سے چاہیے جن میں عورت کو بے وجہ ایک عرصہ دراز سے قید کیا گیا جس کی نہ کوئی مذہبی حیثیت ہے نہ ہی سماجی.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!