زیب لونی کے افسانوں کی خصوصیات

Spread the love

تحریر:ماریہ اکرم

قسط 4

 

زیب النساءکےافسانوں کا فکری جائزہ”جس طرح میں نے زیب لونی کے افسانوں کا مطالعہ اور اور ان کے افسانوں کی خصوصیات پیش کی اسی طرح اب میں یہ کوشش کروں گی کہ ان کے افسانوں کی روشنی میں ان کی فکر کو اچھی طرح سے اجاگر کر سکوں مجموعی لحاظ سے ذہنی کے افسانوں میں ان کی فکر واضح طور پر ہمیں نظر آتی ہیں مثال کے طور پر رہیں وہ بلوچستان کے محروم اور مایوس خواتین کے مسائل کا ذکر کرتی ہیں کہیں وہ مرد کی فرعونیت کو سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے وہ اپنے افسانوں نو میں کہیں ان کی ناخواندگی پر بکا کرتی ہیں اسی طرح کہیں وہ خواتین کے ساتھ عام زندگی میں جو ناانصافی ہوتی ہے ان کے ساتھ افسانے کے واقعات کو جوڑتی ہیں اور اسی طرح وہ اپنے صوبے کے بچوں کی ناخواندگی اور غربت کے مسائل کو بھی پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اگر ہم ان کے وسائل کو بھی نظرانداز نہیں کرتی ان تمام مسائل کے علاوہ اپنے معاشرے کے خواتین کی غلامی کے حوالے سے بھی کچھ نہ کچھ واقعات اپنے افسانوں میں نقل کرتی ہیں فکری اعتبار سے زیب لونی حساس خاتون لگتی ہے کیونکہ وہ اپنے صوبے کی مایوسی اور محرومی کو شدت سے محسوس کرتی ہے اور ان کے احساسات کے پس منظر میں یہ سوال بھی موجود رہتا ہے کہ آخر کب تک میرے صوبے کے لوگ جبر اور ظلم کے اندھیروں میں رہیں گے اگر ہم اس کا کوئی بھی اسان اٹھائے تو اس میں ہمارے صوبے کے کسی نہ کسی مسلے کا ذکر ہوگا مثال کے طور پر میں "میجیشن” افسانے میں قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک بوڑھا بے روزگار کو دو وقت کی روٹی کیلئے کام نہیں ملتا وہ کام ڈھونڈنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن واپس وہ کبھی مایوس آجاتا ہے تو کبھی کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں کیونکہ مزدوری اس کی مجبوری ہے اس کو اور اس کے بچوں کو دو وقت کی روٹی چاہیے اور اس کے علاوہ اس کے دو بیٹے بھی ہوتے ہیں جو کہ فوت ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ اپنے ان بیٹوں کے بچوں کو سنبھالتا ہے اور اس کے ایک پوتے کو کینسر بھی ہوتا ہے مطلب ان کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہوتا صرف یہی ایک بوڑھا ہوتا ہے جو کہ جادو دکھاتا ہے بڑھاپے کی وجہ سے وہ اپنا یہ فن بھی صحیح سے استعمال نہیں کر سکتاجس کی وجہ سے اس کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے لیکن وہ کچھ پیسوں کے لیے ان سب کو درگزر کر دیتا ہے اگر ہم سوچیں تو ہمارے صوبے کے لوگ مزدوری کے لیے کتنے خوار ہوتے ہیں اس کی تصویرکشی زیب لونی نے جتنی مہارت سے کی ہے وہ اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں.اب ہمارے معاشرے میں جب ایک بوڑھا انسان اتنی تکلیف سے اپنی زندگی بسر کرتا ہے تو زیتونی ایسے کرداروں کے بارے میں بولنا بہت اہم سمجھتی ہے کیوں کوئی اس کو اپنے معاشرے کا پورا پورا احساس ہوتا ہے اس لیے نہ تو وہ کسی غریب بے روزگار کے کردار کو نظر انداز کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے کردار کی گھر کے حالات کو نظر انداز کرتی ہے کیونکہ وہ فکری طور پر ان چیزوں کو شدت سے محسوس کرتی ہے اب اگر ہم اس کا کوئی اور افسانہ زیر بحث لانا جائے تو اس میں بھی ہمیں میں میں بلوچستان میں معاشرے کے ایسے مثال ملیں گے جو اپنی جگہ اہم بھی اور قابل غور بھی ضرورت مثال کے طور پر اگر ہم ان کا افسانہ "پیدائشی غلام” نام سے ہے اس میں بھی ایک بیانک واقعہ نظر آتا ہے جس میں ایک باپ اپنے ایک بیٹے کے لئے دو لاکھ میں ایک لڑکی کا رشتہ طے کر دیتا ہے لیکن جب دوسرے بیٹے کا رشتہ مانگنے کے لیے اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے تو کے لئے اس کا بھائی 3 لاکھ مانگتا ہے ہے اور جب اس کا بھائی یہ سنتا ہے تو کہتا ہے میں نے اپنے ایک بیٹے کا رشتہ دو لاکھ میں طے کیا ہے تو تو میرا بھائی ہے تو تین لاکھ میں رشتہ دے رہا ہے یہ پیسے میں کہاں سے لاؤں گا تو اس کا بھائی یہ جواب دیتا ہے کہ اگر پیسے تو نہیں دے سکتا تو پھر جب تیری دوسرے بیٹے کو بیٹی پیدا ہوئی اس پر پورا پورا میرا اختیار ہوگا کیونکہ تیری تو کوئی بیٹی نہیں کہ میں اپنے بیٹے کی شادی اس سے کرو اور مجھے بھی تو اپنے بیٹے کی شادی کروانی ہے اب اگر اپنی بیٹی کے بچے کو میں لے لو اور اپنے بیٹے سے شادی کرواؤں تو وہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اس کا ماموں ہوگا تو جو تیرے دوسرے بیٹے کی بیٹی ہوگی اس سے میں اپنے بیٹے کی شادی کروا دوں گا اور یہ رشتہ یہی پے یہی طے ہو جاتا ہے اب ہم ذکر شدہ رشتے پر سوچیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں بیٹیاں بکریوں کی طرح بکتی ہیں اس لئے زیب لونی نے شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ وہ اس طرح کے نارواں مسائل اور فرسودہ رواج کو اپنے افسانوں کا موضوع بنائے کیونکہ یہ مسائل ان کی ذات تھی فکر کا حصہ ہے۔ان ذکر شدہ مسائل پر غور کیا جائے تو یہ بلاشبہ معاشرے کے بہت بڑے اور سنگین مسائل ہیں اس لیے زیب لونی جیسےکوئی ذی شعور ی ان مسائل کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کر سکتا چونکہ زیب لونی ایک مثبت فکر فکر کی مالک ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک تعلیم یافتہ اور با شعور خاتون ہے اس لئے اپنے صوبے کے اس قسم کے ناروا مسائل سے پردہ اٹھانے کی انہوں نے کوشش کی ہے زیب لونی کے احساسات کا صحیح معنوں میں ہمیں پتہ تب چلتا ہے جب ہم ان کے مختلف افسانوں کی بات کرتے ہیں ناخواندگی بیروزگاری خواتین کے ساتھ ناانصافی معاشرے میں طبقاتی فرق کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہونے والے دہشت گردی بچوں کی غلامی بچوں کی ناخواندگی غربت کی وجہ سے ان کے افسانوں کے کلیدی موضوعات ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فکری اعتبار سے وہ ان مسائل کو اجاگر کرنے میں کتنی کامیاب ہوئی ہے تو زیب لونی کے افسانوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہیں زیب لونی کے علاوہ ہم بلوچستان کے کچھ اور افسانہ نگاروں کی بات کرے تو انسانوں کے میدان میں آگاہ کا نام سر فہرست آتا ہے ان کے کہیں ایک افسانے مجموعے منظر عام پر آئے ہیں انہوں نے بھی معاشرے کے مسائل کی تصویر کشی کی ہے اس طرح اگر ہم فاروق سرور کے افسانوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ علامتی انداز میں معاشرے کے مختلف مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور علامتی زبان میں معاشرے کے ایسے کرداروں کے خلاف واقعات نگاری کرتے ہیں جن سے ہمارے صوبے کے مسائل سے ہمیں پوری آشنائی اور واقفیت ملتی ہیں۔ زیب لونی کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد ہمیں اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ

” اردو افسانہ اب حقیقت سے قریب ہوگیا ہے اس نےفطرت انسانی کا
زیادہ گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی تبدیلیوں کا پورااحساس ہے اور اگر
وہ خطابت اورانشاپردازی کے پکڑ سے نکل جائیں تو اسمیں بلندی اور آجائے”7

مندرجہ بالا حوالے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جرمنی نے بھی انسانی فطرت کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں زندگی کی اچھی تبدیلیوں کی کی طلبگار نظر آتی ہیں اور وہ یہ فکر بھی رکھتی ہیں کہ ہمارے صوبے میں یہ پہلے ہوئے اندھیرے کب دور ہوں گے کیونکہ وہ ایک اور امید افسانہ نگار اور ترقی پسند سے وابستہ افسانہ نگار ہے اس لیے وہ اپنے افسانوں میں نا امید نظر نہیں آتی وہ تو صرف ان مسائل سے پردہ اس لیے اٹھانا آنا چاہتی ہیں تاکہ اس کے معاشرے کے لوگ ان بے شمار مسائل سے آشنا ہو سکے اور ان میں یہ احساس پیدا کیا جاسکے کہ ان مسائل کے حل کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ایزی منی کے افسانہ "ذات کا سودا” میں بھی ایک گھرانے کے غربت کا ذکر کیا گیا ہے اس گھرانے میں ایک باب گدھا گاڑی چلاتا ہے کبھی اس کو مزدوری ملتی ہے تو کبھی نہیں کیونکہ اس کی جڑیں اب بہت خستہ حال میں ہوتی ہے تو ان کا جو آمدن ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے کیونکہ وہ کڑی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے اور اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کے اسے بنا دیا جائے آئے لیکن آخر وہ اتنا مجبور ہوجاتا ہے کہ گھر میں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی اس کی خوبصورت نوجوان بیٹی ایک حساس لڑکی ہوتی ہے اس سے اپنے والد کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی اور اس کا چھوٹا بھائی بھی ہمیشہ جب مرزائیوں کو گوشت کھاتے ہوئے دیکھتا ہے تو گھر میں آکر روتا ہے اور اپنی ماں سے کہتا ہے کہ ہمارے ہمیشہ خشک روٹی ہی کیوں ہوتی ہے اور کبھی یہ روٹی بھی نہیں ہوتی اسے والد کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی اور وہ آخرکار یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پچاس ہزار روپے میں بھی اس کا رشتہ طے ہوتا ہے ہے ہے وہ بھی ادھیڑ عمر کے ایک بڈھے سے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہوتی ہے کیونکہ پچاس ہزار روپے اس کی خوبصورتی سے سے اس کے لئے بہت خوبصورت ہوتے ہیں ہیں اس طرح اس کا رشتہ پچاس ہزار روپے میں ایک پچاس سالہ بورے سے تحت ہوتا ہے لیکن وہ خوش ہوتی ہے کہ آپ 50000 روپے اسے ملیں گے تو وہ اپنے والد اسد کے لیے تانگا خریدے گی اور اس کے گھر کے حالات بدل جائیں گے ان کی زندگی اچھی ہوجائے گی اور بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے اور وہ بھی سبق سے زندگی بسر کر سکیں گے اب اگر ہم یہاں زیب لونی کی فکر کا اندازہ لگائے تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنی دور اندیش سوچ اور فکر کی مالک ہے اور اس کی فکر ہر جگہ اور ہر مسئلہ تک پہنچتی ہے ہے ہے نکاح شدہ افسانے میں ہے فکر گہرائی کا اور گہرے مشاہدے کا اندازہ لگانا آسان نہیں کیونکہ وہ ان کی نظریں دور دور تک کام کرتی ہیں اس لئے تو انہوں نے ذات کا سادہ اور کمال سے نکاح ہے کی گاڑی بغیر کسی وجہ کے ہوا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور آخرت کا سے پڑھنے نے پر آمادہ ہوتا ہے ہے کیونکہ اس افسانے میں اس کی سوچ اور فکر کی گہرائی سے جنت سے محسوس کی جاسکتی ہے اس افسانے میں نوجوان خوبصورت لڑکی کی جب شادی ہو جاتی ہے اور اپنے گھر میں چلی جاتی ہے تو جب اپنی ہاتھ میں جڑیو برا ہاتھ آتی ہے تو اسے اپنی زندگی سے بھی گن آجاتی ہے ہے ہے تو یہ ہے زیب لونی کا فکر کر جو عورتوں کے مسائل کو ہمارے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ انہوں نے عورتوں کے مسائل کو بڑی باریک بینی سے تجزیہ ہیں اور نہ صرف اسی تجزیے تک رکھا ہے بلکہ اس پر اپنا تخلیقی مشاہدہ بھی کیا ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں کوئی مسئلہ بھی نامانوس نہیں لگتا یا اضافی معلوم نہیں ہوتا یہی زیب لونی کا فن اور کمال ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ افسانہ محض افسانہ نگار کا ایک آئیڈیا ہوتا ہے جو معاشرے اور ماحول کی پوری طرح عکاسی کرتا ہے حالانکہ افسانہ حقیقت پر مشتمل نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود این حقیقت کی طرح لگتا ہے۔بورگزیوسا فکشن کے بارے میں کہتے ہیں کہ
” فکشن سچی نہیں ہوتی تاہم سچی ہونے کا سوا ن گبھرتی ہے” 8

بو گز یو سا نے کتنی بہترین بات افسانے کے ضمن میں کی ہے وہ واقعات سچ کہتا ہے کہ فکشن ایسا جھوٹ ہے جو کہ یہ حقیقت سے پردہ اٹھا لیتا ہے یہی افسانے کی انفرادیت بھی ہے افسانہ نگاری سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بالکل حقیقت کے عین مترادف ہوتا ہے۔ زیب لونی نے بھی اپنے سوچ کو زندگی کے تلخ حقائق کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے اس کے افسانے کے کردار اور واقعات اس لئے حقیقی لگتے ہیں کیونکہ ایسے کردار اور واقعات ہماری اس معاشرے میں عام موجود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے کے واقعات اور خیالات ہمیں نہ آشنا نہیں لگتے بلکہ بالکل ایسا لگتا ہے کہ اس کی فکر ہمارے اس معاشرے کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہو گئی ہے کیونکہ جس طرح اس کے افسانوں کے تلخ حقائق ہمارے معاشرے کے تلخ حقائق کی نمائندگی اور ترجمانی کرتی ہیں اسی طرح اس کی فکر بھی ہمارے سارے مسائل کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنا سفر طے کر رہے ہیں دوسری اہم بہت سی بلونی کے افسانوں میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ مختلف مسائل سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں ان کے افسانوں کے موضوعات میں ان کا فکر تنوع بھی نظر آتا ہے وہ فکری لحاظ سے وسعت رکھتی ہیں اس لیے انہوں نے ہمارے اس گئے گزرے معاشرے کے مختلف حالات اور واقعات کا گہرا مشاہدہ کیا ہے یہی ان کے افسانے کے میدان میں کامیابی کا اصل راز ہے کے تمام افسانوں سے روشن فکری کی جھلک دیکھتی ہے ہے کیونکہ وہ ایک روشنفکر خاتون ہے وہ اپنے معاشرے کے عورتوں کے مسائل کے حل کے لیے شعوری کوشش کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کے مسائل کو زیادہ اہم بھی سمجھتی ہیں اور ان کے افسانوں میں مرکزیت بھی عورت کو حاصل ہے خواتین کے ان مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدامات عمل میں لایا جائے یہ ان کا فکر ہے ان کی فکر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بہت شدت سے محسوس کر رہی ہیں ہمارے صوبے کے خواتین ناخواندہ اور جہالت کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ اس حوالے سے وہ مثبت سوچ رکھتی ہیں وہ چاہتی ہے کہ ہمارے بلوچستانی معاشرے کی تمام خواتین تعلیم یافتہ ہو کیونکہ وہ خود ایک روشن فکر اور تعلیم یافتہ خاتون ہیں بلوچستان کی خواتین کو اس طرح نو خاندہ اور جاوید نہیں دیکھ سکتی اس کے ساتھ ساتھ ان کے افسانوں سے قاری کو یہ شعور بھی ملتا ہے کہ معاشرے سے کسی نہ کسی اندھیرے اور اور برے حالات ختم ہو کیونکہ ان کے افسانوں سے ہمیں ایک مثبت فکر کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ہے جس کی وجہ سے ہمیں زیب لونی ایک با شعور خاتون لکھتی ہیں۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ زیب لونی نے دہشتگردی کے مسائل مردوں کی فرعونیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دہشتگردی کے مسائل کو اجاگر کرنا بھی اس کا فرض بنتا ہے عورت اگر ظلم میں پھنس رہی ہے تو اس کی وجہ بھی مردوں کی فرعونیت ہے عورت اگر ناخواندہ ہے تو وہ بھی مردوں کی کی فرسودہ رواج اور مردوں کے مظالم کے وجہ سے ہے کیونکہ ہمارے اس محرم معاشرے بلوچستان میں آئے دن دہشت گردی کے واقعات بھی ہوتے ہیں اگر ہم ان کے افسانے جلتے خواب سے دہشت گردی کا ایک واقعہ واقعہ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی فکر سے ہمارے معاشرے رے کا کوئی مسئلہ بھی پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ انہوں نے ان تمام مسائل کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیب لونی نے ہمارے معاشرے کے تمام مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے اور انہیں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔(جاری)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!