تعلیم دو، جیل نہیں!

Spread the love

تحریر: منان صمد بلوچ

یہ بلوچستان میں پُرامن اسٹوڈنس طبقہ کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ طلباوطالبات کو دیوار سے لگانے کی کیوں کوششیں کی جارہی ہیں؟ آئے روز طلباوطالبات کو احتجاجی مظاہروں میں کیوں اُلجھا جارہا ہے؟ آخر آئے دن نیا مسئلہ سر اُٹھانے کیوں لگتا ہے؟ کیا سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے؟ نت نئے اوچھے ہتکھنڈے کیوں رچائے جاتے ہیں؟ آخر اس کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں؟ آخر یہ قوتیں طلباوطالبات سے کیوں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں؟ کیا یہ تعلیم کے دروازوں کو بند کرکے دم لیں گے؟ یہ قوتیں اسٹوڈنس کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے بجائے جیلوں میں کیوں رکھنا چاہتی ہیں؟ تعلیم اور نادیدہ قوتوں کے مابین خاص قربت کیا ہوسکتا ہے؟ کیا تعلیم نے اُن کی نیندیں حرام کردی ہیں؟ کیا تعلیم سیسہ پلائی دیوار بن کر اُن کے سامنے کھڑی ہے؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو ہر کسی کے زہن میں اُبھر سکتے ہیں-

ابھی حال ہی میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی نجکاری کے خلاف ریلی میں شریک فی میل اسٹوڈنس کو پولیس گردی کی توسط سے گرفتار کرکے حکومتِ وقت نے بےشرمی اور بےحیائی کی ایک نئی مثال قائم کردی ہے جو بلوچ معاشرے کی روایات کی منافی اور چاردیواری کی تقدس کو پامال کرنے کے برابر ہے- بی ایم سی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے معاملے کو دبانے کی بھونڈی کوششیں کی جارہی ہیں- لیکن یہ پولیس کی گنڈہ گردی، گرفتاریاں، تشدد و زیادتی طلباوطالبات کے عزاہم کو کمزور نہیں کرسکتے، بلکہ اس سے حوصلے مزید بلند ہوں گے- یہ یاد رہے کہ طلباوطالبات کی گرفتاریاں اور اُن پر تشدد ایک جمہوری ملک کیلئے نیک شگون نہیں، اس سے معاشرے پر بھیانک نتائج مرتب ہوسکتے ہیں-

دو مہینوں سے یہ چیخ و پکار کا فضا سما ہے لیکن حکومت کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی- یہ احتجاجی مظاہروں کا نہ رکنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن گورنر اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا جبکہ وائس چانسر کے سامنے گورنر نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں- اس سلسلے میں صوبائی حکومت بےبس نظر آرہی ہے- اٹھارویں ترمیم چکنا چور ہوتا جارہا ہے- اپوزیشن محض طفل تسلیوں اور کھوکھلے دعوؤں پر انحصار کرتی آرہی ہے جبکہ طلباوطالبات کا موقف اٹل ہے کہ جبتک اُن کے مطالبات پورا نہیں ہوتے ہیں تبتک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے-

تعلیم کی اہمیت و افادیت کا ادراک رکھنے والی اقوام آج بھی دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں اور علم اور سائنس کی بدولت سے دنیا چاند اور مریخ کو مسخر کرچکی ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں طلباوطالبات کیلئے مسائل کے دائرے سے چھٹکارہ پانا محال ہوکر رہ گیا ہے- مصائب و آلام کو سُلجھانے کے بجائے مشکلات مزید بڑھتے جارہے ہیں جو انتہائی مخدوش صورتحال ہے- بلوچستان پہلے ہی تعلیمی میدان میں ملک کے دیگر صوبوں سے سب سے پیچھے ہے اور تعلیمی میدان میں سب سے زیادہ زبوں حالی اور خستہ حالی کا شکار نظر آتا ہے- اس طرح کے حالات میں طلباوطالبات کو احتجاجی مظاہروں میں اُلجھائے رکھنا، اُن کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے-

خدارا! طلباوطالبات کو پڑھنے دیں- تعلیم ہمارا آئینی حق ہے- اسٹوڈنس طبقہ کو آئے روز سڑکوں پر مت گھسیٹیں- تعلیم کی راہ میں روڑیں مت اٹکائیں- ہمیں علم کی پیاس بُجھانے دیں- تشدد اور گرفتاریوں کی گھناؤنی کلچر کو ہوا دینے سے گُریز کیا جائے- پولیس کو اپنے دائرے میں رہنے دیا جائے- اسٹوڈنس ایک پُرامن طبقہ ہے اور اُنہیں پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے دیا جائے- طلباوطالبات کو نہ بھڑکایا جائے، اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو ہم رُکنے کا نام نہیں لیں گے، اودھم برپا رہے گا، کھلبلی مچتی رہی گی، آپ کیلئے زمین تنگ کرکے رہیں گے- اِسے التماس نہیں بلکہ انتباہ سمجھیں-

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!