صنف نازک اور عورت مارچ

Spread the love

تحریر:سحرش امتیاز

عرف عام میں عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے.لیکن آج کل اس صنف نازک کے انداز ہی نرالے ہیں.کبھی پہاڑوں کو سر کر رہی ہے تو کبھی ملک کے اہم معاملات میں حصہ ڈال رہی ہے، کبھی دن رات ایک کر کے مریضوں کی دیکھ بھال میں لگی ہے تو کبھی ملک کا مستقبل بنانے میں سرگرداں ہے، کہیں ملک کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کام کر رہی ہے تو کہیں اپنے قلم سے ذہنوں کی آبیاری کر رہی ہے. غرض زندگی کے ہر میدان میں یہ صنف نازک سرگرم نظرآتی ہے. پھر ایک بات عجیب ہے یہ عورت جس کو ہر کام میں آزادی حاصل ہے وہ کس women empowerment کی بات کرنے سڑک پر نکل آتی ہے؟ بینرز اٹھا کے نعرے لگائے جاتے ہیں؟ کس وجہ سے اپنے جسم کا اشتہار لگایا جاتا ہے؟ کیوں اپنی اور دوسری عورتوں کی عزت کو لبرلزم کے نام پہ نیلام کیا جاتا ہے؟

پچھلے سال ہونے والی عورت مارچ کے بعد کچھ خواتین کا موقف جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ کیونکہ مرد حق جتاتا ہے، مارتا ہے، عورت کی عزت نہیں کرتا تو پھر ایسے مردکے ساتھ رہا ہی کیوں جائے،اسکی عزت کی ہی کیوں جائے. مانا کے آج کا مرد عورت کو عورت نہیں سمجھتا، اس کے نزدیک عورت تسکین نفس کاذریعہ ہے، مانا کہ اس کی نظریں بھی بھوکی ہو چکی ہیں ہیں، وہ ماں بیٹی بہن میں فرق کرنا بھول گیاہے لیکن کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے کہ خود کو ہی سرعام ننگا کر ڈالو؟
کیا یہ سب کرنے سے برابری ہو جائے گی؟ اللہ نے کچھ چیزوں کی اجازت مرد کو دی ہے عورت کو نہیں کیا اللہ کی حدود کو پھلانگنے کا ارادہ کر لیاہے؟ تو پھر بربادی کے سوا کچھ نہیں ملنا. جی تو چاہتا ہے کچھ عرصے کے لیے انہیں یورپ میں پھینک دیا جائے اور بولا جائے لو اب مزے آزادی کے.

ارے عورت کےلیے لفظ مستور استعمال ہوا ہے یعنی *چھپی ہوئی چیز* اور وہی عورت اسکو سرعام نیلام کر دینا چاہتی ہے. اسکو لگتا ہے کہ اسکو حق نہیں مل رہا جب کے اللہ کی قائم کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے عورت سے زیادہ حق اور بھلا کس کے پاس ہے؟ مرد کو حکم ہے کہ وہ عورت کی حفاظت کرے، اس کے نان و نفقہ کا بندوبست کرے اور عورت گھر بیٹھ کے اولاد کی اچھی تربیت کرے. چلو مانا کے آجکل کا فیشن اور شاید ضرورت بھی بن گئی ہے کے مرد اور عورت مل کر گھر چلائیں لیکن یہ کہاں سے مناسب اور ایک خاندانی عورت کو زیب دیتا ہے کو وہ میرا جسم میری مرضی کا اشتہار لگائے جو جی چاہے پہنو لیکن گھر کے اندر باہر نکل کر دعوت دو گی تو پھر مرد نے تو وہی جواب دینا ہے جو پچھلی عورت مارچ کے بعد دیا گیا؛ میری نظر میری مرضی. دراصل ہمارے جسم پر ہماری مرضی ہے ہی نہیں ہم پہ صرف اللہ کی مرضی ہے اس جسم کے ایک ایک حصے نے اللہ کے سامنے بولناہے اس وقت احساس ہوگا کہ ہماری مرضی تو کہیں تھی ہی نہیں.

اس دفعہ پھر عورت کے حق میں نعرے لگانے کی تیاری کی جارہی ہے، سوچا جائے تو عورت کے حق میں نہیں اس کی عزت کی دھجیاں اڑانے کی تیاری ہو رہی ہے. کیوں نہ اس دفعہ روایت کو بدلا جائے ان نعرے بازیوں کے بجائے ایسی محفل کا انعقاد کیا جائے جہاں اسکو باور کروایا جائے کہ اس دورمیں نہ تو عورت کی عزت کم ہوئی ہے نہ اس کے حقوق پہ کسی نے ڈاکہ ڈالا ہے بس اپنی عزت کروانا سیکھنے کی ضرورت ہے.

تحریر: سحرش امتیاز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!