کیا واقعی بلوچستان میں کوئی ناراض نہیں؟

Spread the love

تحریر۔۔ یاسر خدرانی

چند روز قبل وزیر اعلی بلوچستان محترم جناب جام کمال خان عالیانی صاحب کوئیٹہ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوۓ فرمارہے تھے کہ بلوچستان سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے بدولت الحمداللہ بلوچستان میں امن امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور بلوچستان میں اس وقت کوئی ناراض بلوچ یا پختون نہیں ہے

مگر اس بیان کو گزرے ہوۓ چند دن ہی ہوۓ تھے کہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئیٹہ میں وزیر اعلی سیکٹریٹ سے چند کلو میٹرز کے فاصلہ پر واقع ایک کچہری روڈ پر دن دہاڑے دہشتگردوں نے خون کی ہولی کھیلی جس میں دو درجن سے زائد لوگ شہید اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے

ایک طرف اس دھماکہ نے وزیر اعلی جام کمال خان کے امن و امان کے متعلق تسلی بخش بیان کے پرخچے اڑادیے وہی دوسری طرف اس دھماکہ نے کئی گھرانوں کے کفیل چھین لی،
کئی سہاگ اجاڑ دی،
اس دھماکے کے سبب مائوں کے لخت جگر نوکیلی پلیٹس اور چھروں سے چھلنی ہوگئے،
کئی باپ اپنے مستقبل کا سہارا اور اپنی اپنی امیدوں کے محور کے آخری دیدار سے قبل نڈھال ہوتے نظر آۓ،
کہیں کوئی بہن بڑے بھائی اور کہیں چھوٹے بچے بابا کی راہ تکتے رہ گئے،
تو کہیں یار دوست اپنے یار کے ایڈینٹی کارڈ ہاتھ میں پکڑے آنسوں پونچھتے نظر آۓ۔۔۔

خیر یہ تو کوئی نئی بات نہیں، اگر یہ کہا جاۓ کہ اہل بلوچستان بلخوص شہر کوئیٹہ میں بم دھماکے اور گرتی لاشیں روز کا معمول ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا
اس شہر میں شاید کہ کوئی شاہراہ میدان ایسا باقی بچا ہو کہ جو اب تک دہشتگردوں کے ناکام قدموں سے پلید نہ ہوا ہو،
یہاں تو مساجد، مدارس اور ہسپتال یہاں تک پولیس ٹریننگ سینٹرز بھی بارود کی بو اور بلٹس سے محفوظ نہیں رہے ہیں یہاں روز لاشیں گرتی ہیں اور روز بین ہوتا، روز گود اجاڑ دیے جاتےہیں، روز سہارے چھین جاتے ہیں اور روز معصوم مرتے ہیں اور روز ہی قاتل ٹوٹے کمر والے نامعلوم ہوتے ہیں

پولیس کی وہی پالیسی بیان بھی آتی ہے جو اب یہاں کے ہر فرد کو زبانی یاد ہوچکی ہے

"شدید الفاظ میں مذمت،

انکوائری کی جائے گی،

دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی،

رپورٹ طلب کرلی،

تشویش کا اظہار،

نوٹس لے لیا،

کیفر کردار تک پہنچائیں گے،
اور
دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں،

حالات پہلے سے بہتر ہیں۔”

اور پھر مختصر مدت کے بعد کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پھر سے صوبائی وزیرداخلہ یا پھر کوئی پولیس آفیسر آکر یہی رٹے رٹاۓ جملے پریس کے سامنے رٹ کر اگلے واقعے کے انتظار کرنے بیٹھ جاتے ہیں

پہلے تو حکومتوں کی جانب سے یہ کہا جاتا تھا کہ یہاں کے کچھ ناراض ہیں، کچھ شدت پسند ہیں، چند دہشتگرد ہیں، چند ایک را کے ایجنٹس ہیں، کچھ این ڈی ایس کے سہولت کار ہیں جو یہ سب کچھ کررہے ہیں انڈیا اور افغانستان کے ایماء پر بلوچستان میں تحزیب کاری ہوتی ہے

مگر اس بار تو وزیر اعلی نے واشگاف الفاظ میں نہ صرف ناراض لوگوں کے ختم ہونے کا کااعلان کیا بلکہ دیگر دہشتگردوں کے جنکے اس سے قبل کمر توڑنے کی نوید سنتے تھے انکے بھی خاتمہ کا اعلان کیا تھا

تو پھر پوچھنا تو بنتا ہیکہ اگر را، این ڈی ایس کی کمر ٹوٹ گئی، شدت پسند، دہشتگرد اور سہولت کار گرفتا ہوگئے اور پہلے والے ناراض بھی خوش ہوگئے
پھر یہ واقعات کون کروراہا ہے؟
کس کی ایماء پر ہمارے خون کو بہایا جارہا ہے؟
اگر را، اور این ڈی ایس اس حملے میں بھی ملوث ہیں تو ہمیں بتایا جاۓ وہ کون ہے جو ہربار انکی ٹوٹی ہوئی کمر کا علاج کرکے انہیں یہاں پھٹنے کے لیے بھیجتا ہے؟
یا پھر۔۔۔۔۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ بم و بارود ناراض لوگوں کو خوش کرنے کی خوشی میں شادیانے کے طور پر پھٹاۓ جارہے ہیں؟؟؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!