بسمہ اللہ بلوچ آج بھی انصاف کا منتظر

Spread the love

بسم اللہ بلوچ آج بھی انصاف کا منتظر ہے۔

تحریر: معاذاللہ طوقی

حضرت امام حسین رض کا قول ہے کہ "انسان تو روز ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں مگر انسانیت کسی کسی گھر میں پیدا ہوتی ہے۔” ہم نے برسوں سے انسان سازی کا کام چھوڑ رکھا ہے اور انسانیت سے ناطہ توڑ رکھا ہے۔
بیس نومبر 2019 کا وہ المناک سانحہ جب بلوچستان کے شھر دکی پر وہ قیامت ٹوٹی کہ اشرف المخلوقات میں سے کچھ نے ارذل المخلوقات کا روپ دھار لیا اور وہ انسانیت سوز حرکات کی کہ درندے بھی جن کا تصور کریں تو کانپ کانپ جائیں۔ آج انسانیت تزلیل کی انتہا پر ہے اور اسکی لاش سسکیاں لے لے کر دم توڑ رہی ہے۔ جب ایک ہی گھر کے پانچ افراد کو دن دیہاڑے بڑی بـے دردی سے شہید کیا گیا. کیا انسانیت آج بھی زندہ ہے یا پھر اپنے وجود کی بقا میں آخری سانسیں لے رہی ہے؟

قاتل جعلی وردی میں ملبوس ہوکر چیکنگ کے بہانے "انزرگٹ” کے مقام پر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیرِ تعلیم قانون کے طالبعلم "بسم اللہ بلوچ” کے دو بھائی سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ لوگوں کو گاڑیوں سے اُتار کر اور شناخت معلوم کرنے کے بعد اندھا دُھند فائرنگ شروع کردی۔ جس سے حاجی سیدال‌، نصرالدین موقع پر ہی دم توڑ گئے، عبدالرشید، محمد انور اور زکریا بلوچ شدید زخمی ہوگئے۔۔مگر زکریا بلوچ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جبکہ ملزمان، حبیب اللہ اور نعمت اللہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُنہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ بسم اللہ بلوچ کیلئے وہ دن قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا کہ دوسرے دن ہی ظالموں نے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے نعمت اللہ اور حبیب اللہ کی گردنیں کاٹ کر مسخ شدہ لاشیں اُنکے گھر بھیج دی.

بسم اللہ بلوچ آج انصاف کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ وہ کبھی کوئٹہ تو کبھی اسلام آباد کی سڑکوں پر بینرز اٹھائے احتجاج کر رہا ہے کہ اُسے انصاف دیا جائے۔ ہم نے سُنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے تو یہ کیسی ماں ہے جو "تراسی” دن گزرنے کے باوجود اپنے بیٹے کو انصاف نہیں دلا سکی۔ بسم اللہ بلوچ ریاست سے سوال کر رہا ہے آخر اُسے کیوں انصاف نہیں دیا جارہا؟ ایف۔آئی۔آر درج ہونے، قاتل معلوم ہونے کے باوجود اب تک کیوں آزاد پھر رہے ہیں؟ کتنے ہی نوجوان یوں لاپتہ ہوئے گویا زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں، انسانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں مگر قانون کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی؟ وطن عزیز میں لا قانونیت کا عالم دیکھ کر دل سے ہوک سے اٹھتی ہے کہ یہ جنگل سے بھی بدتر سماں ہے کہ جنگل کا بھی کوئی قانون اور ضابطہ ہوتاہے۔ قانون یہاں چند خاندانوں میں گھر کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے ایک طبقہ ایسا نسل در نسل پیدا ہوتا ہے جو جیسے چاہے قانون کی دھجیاں اڑائے۔

مظلوم ہمیشہ ظلم کے خلاف انتظامیہ کا رخ کرتاہے، یا پھر عدلیہ کا رخ کرتاہے، جواب نہ ملنے کی صورت میں اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں یا وہ خود بندوق اٹھالے یا پھر خودکشی کرے۔جس دور میں غریب اور مظلوم لوگ سڑکوں پر آکر گولیاں کھانے کیلئے تیار ہوجائیں اس دور کے حکمرانوں سے یقیناً کوئی بڑی بھول سرزد ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں نظام کے باغیوں کو ریاست کا غدار قرار دیکر خاموش کرانے کی کوشش ہوتی ہے، مگر نظام کے خلاف بغاوت کا مطلب ریاست کے خلاف بغاوت ہر گز نہیں بلکہ نظام کے خلاف بغاوت کا مطلب انصاف کا بول بالا ہے۔

بسم اللہ بلوچ کو اس وقت تک سکون نہیں ملےگا جب تک کہ اسے انصاف فراہم نہیں کردیا جاتاہے۔عدل و انصاف کی کرسی پر بیٹھے منصفوں اور قانون ساز اداروں میں براجمان عوامی نمائندوں کو اس نا انصافی کا اِدراک کیوں نہیں ہوتا اور وہ روز محشر کیا منہ دکھائینگے؟ ایک شخص کا پورا خاندان قتل ہو جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ریاست کی ہر مشینری مظلوم خاندان کی دل جوئی کیلئے دوڑ پڑے، انہیں ایف آئی آر درج کروانے کیلئے دھکے کھانے پڑتے ہیں، تھانے داروں کی گالیاں سننی پڑتی ہیں۔ اوپر درخواستیں دینی پڑتی ہیں، بال آخر سڑکوں پر دھرنے دینے پڑتے ہیں۔

ہم بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نا اہل انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن لےکر ڈپٹی کمشنر زیارت اور اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی کو فوری معطل کر کے صاف و شفاف انکوائری کی جائیں ۔
اس درد ناک واقعہ کو "تراسی” دن گزرنے کے باوجود ابھی تک ریاست مدینہ کے نام لیواوں کی زبانوں پر چپ کے تالے کیوں لگے ہوئے ہیں؟
قاتلوں کے نام معلوم ہونے کے باوجود ابھی تک کوئی گرفتاری کیوں عمل میں نہیں لائی گئی ہے؟
تھو اس نظام اور اس کے بڑے بڑے دعووں پر۔۔ برابری کی حکایتیں سنانے والوں پر جس میں فرات کے کنارے مرنے والے کتوں کا ذکر ہے۔

چیف جسٹس ،آئی جی آیف سی اور آئی جی بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے اُنہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں تاکہ بسم اللہ بلوچ کو انصاف مل سکیں ۔
تھوڑی سی غیرت ، شرم، حیا چاہئیے ہوتی ہے، تھوڑا سا احساس چاہئیے ہوتا ہے ۔۔
انسان بننے کے لیے
لیکن ہم انسان کہاں ہیں ۔
زور کے سامنے کمزور تو کمزور پہ زور
عادل شہر تیرے عدل کے معیار پہ تھو

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!