اختلاف یا برداشت

Spread the love

تحریر محمد آمین مگسی

ٹرمپ کا حالیہ بیان کہ القدس اسرائیل کا دارالحکومت ہے جیسے مسلم امہ کی دکھتی نس پر ہاتھ رکھ دیا ہو یا پھر یوں کہا جائے کہ تازہ زخموں پر نمک چھڑک دیا ہو یکدم پوری امت مسلمہ چیخ اٹھی یوں سمجھیں کہ ٹرمپ نے مسلمانوں کو ایمان تازہ کرنے کا ایک بہانہ دیا ہو اس ٹرمپ تماشہ کے پیچھے کیا راز ہوسکتے ہیں ان پر پھر کبھی تحریر کریں گے فی الحال ان تین مسلم ممالک یا پھر یوں کہیں کہ مسلم اکثریت والے ممالک کی پالیسیز اور انکے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اس صف میں تین مسلم اکثریت والے ممالک سرفہرست ہیں
سعودی
پاکستان اور
ترکی
یہ وہ تین ممالک ہیں جب بھی مسلم امہ پر مصیبت آتی ہے تو پورا عالم اسلام انکی طرف دیکھتا ہے اور انہی ممالک سے امیدیں وابستہ رکھی ہوئی جو کہ نہیں رکھنی چاہیے تھیں کی پالیسیاں یکسر مختلف نظر آتی ہیں مسلمانوں نے امید رکھی کہ سعودی اپنے تمام معاہدے ختم کردے گا ایسا نہیں ہوا، مسلمانوں نے امید رکھی کہ پاکستان اپنی آرمی فلسطین کی مدد کیلئے بھیجے گا ایسا نہیں ہوا لوگوں نے امید رکھی کہ ترکی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردے گا ایسا نہیں ہوا مگر اسکے باوجود ترکی کی پالیسیاں پاکستان اور سعودی سے کہیں بہتر اور واضح ہیں اگرچہ فائدہ کچھ بھی نہ ہو،

سعودی صرف مفادات کی رو میں بہہ گیا پاکستان بدقسمتی سے خود اندرونی مسائل کا شکار ہے ترکی کی پالیسیز پاکستان اور سعودی سے کیوں بہتر ہیں ذرا انکا جائزہ لیتے ہیں ۔

ترکی نے کھل کر بیانات دیے جسکا فائدہ یہ ہوا کہ ترکی کی عوام اور مذہبی لوگوں کو اپنے اہنے طور پر بیان بازی کی ضرورت نہیں پڑی اسکے باوجود ترکی نے اس مسئلہ کو جنگ و جدل کی بجائے سیاسی انداز میں حل کرنے کیلئے کوشاں ہے رہی بات سعودی کی تو سعودی تماشہ بین سے زیادہ کچھ نہیں اور اپنے مفادات سے بڑھ کر کچھ نہیں

اگر بات کریں پاکستان اور عوامِ پاکستان کی تو مختلف مشاہدات سے گزرنا پڑتا ہے جس میں کئی خدشاتی پہلو نظر آتے ہیں سب سے بنیادی وجہ عوامِ پاکستان مذہبی جذبات سے بھرپور ہے جذبات درست مگر محض مذہبی جذبات درست نہیں کیوں نہیں انکی بھی وجہ ہے یہ بھی الگ موضوع ہے پھر سہی ۔۔۔ پاکستان کی پالیسیاں کیوں اس قدر مبہم ہیں کیونکہ پاکستان نے کھل کر قومی سطح پر فلسطین کیلئے کوئی بہتر پالیسی وضح ہی نہیں کی جب کبھی مسئلہ ہوتا ہے عوامِ پاکستان سڑکوں پر نکل آتی ہے اور جذبات میں آکر نعرے بازی اور پتلے جھنڈے جلا کر پھر جاکر انڈین فلمیں دیکھتی ہے سوچتی ہے ہم نے آدھی دنیا فتح کرلی ہے ویسے یہ ضروری بھی نہیں کہ فتح کیلئے جنگ ہی مناسب ہے اس کمزور پالیسیوں کے پاکستان اور عالم اسلام بلکہ پوری دنیا پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں یہ انتہائی اہم اور سوچنے والی بات ہے

ٹرمپ کے اس بیانیہ یا پھر پالیسی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں مذہبی جنون عروج پر ہے جسے جہادی تنظیمیں (بظاہر جہادی ) اپنے مفادات کیلئے استعمال کریں گی اس مذہبی جنون کے پیشِ نظر وہ بظاہر جہادی تنظیمیں عوام کی صفوں میں گھس آئیں گی اور اس مذہبی جنون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اپنی کمر مضبوط کرلیں گی پھر اسی مضبوط کمر سے اپنے ہی ملک میں اس مذہبی جنون کا استعمال ہونے لگے گا شاید کہ آپ بات نہیں سمجھ پائے اس لیے تھوڑا پیچھے جاتے ہیں جہاں سے بات نکلی تھی مطلب ٹرمپ نے دوسرے انداز میں پاکستان کے اندر دہشتگرد کیلئے ایک فضا قائم کردی جسکا فائدہ اٹھا کر اپنے اور اپنے ارد گرد ایک مرتبہ پھر غبارے پھٹیں گے ان غباروں کو دیکھ کر امریکہ ایک مرتبہ پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرے گا اگرچہ فلسطین میں امریکہ اپنا سفارت خانہ نہ ہی بنائے مگر اپنے اس بیان سے کم از کم وہ پاکستان کو مسائل میں الجھا سکتا ہے جسکی وجہ کیا ہے؟

بات صرف اتنی ہے کہ پاکستان کی فلسطین کے متعلق حکومتی سطح پر کوئی جامع پالیسی ہی نہیں اگر پاکستان ترکی کی طرح کھل کر اپنا مؤقف بیان کرتا اور عوام یا مذہبی جماعتوں کو اپنے اپنے انداز میں بیانات دینے کی حاجت درپیش نہ ہوتی تو آنے والے دنوں میں دہشتگردی کے واقعات میں خاصی کمی نظر آتی جس طرح ترکی نے کیا ۔۔ چلیں مان لیتے ہی کہ ترکی کے بیانات سے امریکہ اور اسرائیل کو کچھ فرق نہیں پڑتا مگر یہ فائدہ تو ہوا کہ ترکی نے اپنی عوام کو اس مذہبی جنون کی طرف دھکیل کر ایسی بظاہر جہادی تنظیموں کا حصہ بننے سے بچا لیا ۔۔۔۔

ایک تبصرہ

  1. Hello ,

    I saw your tweets and thought I will check your website. Have to say it looks very good!
    I’m also interested in this topic and have recently started my journey as young entrepreneur.

    I’m also looking for the ways on how to promote my website. I have tried AdSense and Facebok Ads, however it is getting very expensive.
    Can you recommend something what works best for you?

    Would appreciate, if you can have a quick look at my website and give me an advice what I should improve: http://janzac.com/
    (Recently I have added a new page about FutureNet and the way how users can make money on this social networking portal.)

    I have subscribed to your newsletter. 🙂

    Hope to hear from you soon.

    P.S.
    Maybe I will add link to your website on my website and you will add link to my website on your website? It will improve SEO of our websites, right? What do you think?

    Regards
    Jan Zac

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!