مظلوم عوام کا شہر اوستہ محمد

Spread the love

تحریر : ببرک کارمل جمالی 

صفائی نصف ایمان ہے یہ شہر ہمارا ہے اس شہر کو  صاف رکھنا ہم سب کا فرض ہے اوستہ محمد کے نوجوانوں سمیت  سیاسی سماجی صحافی برادری پولیس اور سیول سوسائٹی نے صفائی مہم اوستہ محمد کے جناح روڈ سے ریلی کی شکل میں نکالی جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کو صفائی ستھرائی سے آگائی کی جانب مبذول کروانا تھا اس ریلی میں  اوستہ محمد کے مظلوم عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  ہر طبقہ رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر صفائی مہم مقامی روڑوں پہ چلایا گیا اس ریلی کی اہم بات یہ ہےکہ اس مہم میں تمام باشعور اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اوستہ محمد کے کونے کونے کو جھاڑوں لگایا اور کچرا اٹھایا توصفائی کرنے والے اداروں نے بھی اس مہم  میں ساتھ دینے کیلئے پہنچ گئے اور اپنا حصہ ڈالنے لگے ویسے بھی اوستہ محمد شہر بلوچستان کے قدیمی ترین  شہروں کی فہرست میں ایک  ہے، اس شہر کا تاریخی پسِ منظر بہت مہربان اور قابلِ فراموش ہےاس شہر کی آبادی دو لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں صفائی کرنے والے صرف ایک سو کے لگ بھگ ہے جو باعث عبرت ہے۔

اس مہم کو کامیاب کرنے کیلئے نوجوانوں نے سول سوسائٹی اور شہریوں کے ساتھ مل کر شہر میں از خود صفائی مہم کا آغاز کر دیاتو پھر جلد اس ریلی میں مختلف طبقات کے لوگ بھی شامل ہو گئے اور بڑھ چڑھ کر اس مہم کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ گئے ۔ اس مہم میں سول سوسائٹی سمیت ہر طبقہ فکر کے نمائندوں، صحافیوں، کونسلران اور عام شہریوں کی بڑی تعداد بھر پور حصہ لیا یہ مہم صرف چند رضاکار نوجوانوں کی جانب سے ازخود شروع کیا گیا تھا  جن میں احسان علی تنیو شاکر اقبال سیال گل بلوچ غلام دستگیر الطاف حسین شبیر احمد بلیدی اور دیگر سیکڑوں نوجوان شامل ہے جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شہر میں  صفائی مہم چلانے کی ابتداء کی تھی  یاد رہے اوستہ محمد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا مہم چلایا گیااس حوالے سے میں نے چند شہریوں کے تاثرات قلم بند کیئے وہ قابل غور ہے

ایک مزدور  نصراللہ ڈومکی نے بتایاکہ میں  گنا بیچتا ہے اور اپنے گنے کا کچرا اپنی ریڑھی  پہ رکھتا ہو تاکہ میرا شہر صاف رہے۔ میں نے جب اس سے پوچھا بھائی سب ریڑھی والے کچرا روڑ پہ پھینکتے ہیں اور آپ اپنے گنے کا کچرا ریڑھی پہ رکھتے ہو تو وہ کہنے لگے جب ہم اپنے گھر کو اچھی طرح صاف کر سکتے ہیں تو  کیو نہ ہم اپنے روڑوں کو بھی اپنی صفائی کا حصہ بنائیں یہ میرے گنے کا کچرا ہے میں اپنا کچرا اپنے ساتھ لے جانے میں خوشی محسوس کرتا ہو ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے ۔اور سب کو اس ایمان پہ قائم و دائم رہنا ہوگا۔

ایک اور نوجوان احسان علی تنیو  کا کہنا ہے کہ اوستہ محمد ایک گنجان آباد شہر ہے. اس کی  آبادی دو لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ شہر مسائل کا گڑھ بن چکا ہے  پورے شہر میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ یہاں‌صفائی کا نظام نہایت درہم برہم اور انتہائی خراب  ہے. انتظامیہ کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے صفائی کی صورت حال ابتر ہے اعلی حکام اس بابت کوئی توجہ نہیں دے رہے تھے تو اس لیے ہم نے خود ہی شہر کو صاف کرنے چل پڑے ہیں تاکہ ہمارا شہر خوبصورت اور صاف ہو۔

ایک اور نوجوان شاکر اقبال کے بقول یہ مہم کسی قسم کی فنڈنگ کے ذریعے نہیں ہو رہا، نہ یہ کسی این جی او کا پراجیکٹ ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف اپنے شہر کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھنا ہے. ہم اگر اپنے گھر کو صاف رکھ سکتے ہیں تو شہر کو کیوں صاف نہیں رکھ سکتے ہیں حتاکہ کچھ لوگ ہمارے اس مہم پہ تنقید کرتے ہیں ان لوگوں کے اپنے گھر کے سامنے سے ہم نے کچرا اٹھا کے ثابت کر دیا کہ ہم لوگ صفائی پسند ہے اور ہم اپنے شہر کو صاف کرکے ہی چھوڑیں گے ۔

ان تمام نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہم اوستہ محمد کے تمام  شہریوں سے  ڈاکٹروں سے ، دکاندار سے  ریڑھی والوں  سے مودبانہ گزارش ہے کہ اوستہ محمد مظلوم عوام کا شہر ہے اس لئے اس مظلوم شہر پہ رحم کریں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ یہ شہر اپنی مدد آپ کے تحت صاف ہو جائیں ۔حتاکہ عوامی حلقوں سمیت اکثر شہریوں‌ نے نوجوانوں‌ کے جذبے کو سراہا اور صفائی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا حتاکہ بلوچستان کے سوشل میڈیا پہ ان نوجوانوں‌ کے اس انوکھے احتجاج کو بھر پور سراہا جا رہا ہے اور ان سے اپیل کی جاتی ہےکہ  اس مہم کو پورے بلوچستان تک پھیلا دیں تاکہ پورا بلوچستان صاف شفاف ہو جائیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!