وطن کے ہیرے اور بے حس سماج

Spread the love

تحریر محمدامین مگسییہ وہ ہیرے ہیں جو کوئلے کی کان میں کوئلہ شمار کیے جاتے ہیں بلوچستان کے غریب لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جی رہے ہیں اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی تعلیم ، صحت ، گیس ، بجلی انصاف یہ بنیادی حقوق کیا ہوتے ہیں کسی نے بتایا تک نہیں

کسی سے شکوہ نہیں کیونکہ اس جرم میں سب برابر کے شریک ہیں آج بھی بلوچوں کے نام پر دنیا بھر سے امداد لے کر اپنے ہی لوگوں نے ان غریب نادار بلوچوں کو تعلیم صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے ۔

بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے انسانی حقوق کے نام پر تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور ان غریب لوگوں کو اپنی پروڈکٹ کے طور پر استعمال کرکے دنیا سے دولت بٹور رہے ہیں بہت سی ایسی این جی اوز جو بلوچستان میں تعلیم صحت اور صاف پانی کا نعرہ لگاتی ہیں پھر بڑے بڑے ہوٹلز میں اچھے اچھے پروگرام کرکے دنیا والوں کو یہ دکھا رہی ہیں کہ ہم غریب بلوچوں کیلئے بہت کام کر رہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں وہ تمام تر فنڈز اپنی جیب میں چلے جاتے ہیں

ان این جی اوز کی سب سے بڑی پروڈکٹ مظلوم انسان اور غریب لوگ ہیں جنکے نام پر یہ دنیا والوں سے فنڈز لےکر اپنے محلات تیار کر رہے ہیں صرف اور صرف منافقت ہے اور کچھ نہیں اگر اخلاص ہوتا تو آج بلوچستان کے غریب لوگ پانی کی بوند بوند کو نہ ترستے بنیادی حقوق تعلیم اور صحت سے محرورم کبھی نہ ہوتے جہالت کے اندھیروں میں اس طرح بھٹکتے نہ رہتے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!