بلوچستان ٹریفک حادثات

Spread the love

تحریر جمیل فاکرؔ


بلا شبہ حادثات قدرتی ہوتے ہیں جن پہ انسان کا بس نہیں چلتا مگر انسان کو ربِ کائنات نے شعور عطا کی، علم کی دولت سے فیضیاب کیا .اگر انسان اپنے رب کی دی ہوئی ان نعمتوں سے کام لے تو بڑی حد تک حادثات میں ہونے والی نقصانات کو کم کی جا سکتا ہے۔بلوچستان میں چند سڑکیں کیا بنی ٹریفک حادثات روز کے معمول بن گئے اور ان ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔کوئی بھی شخص اپنے ہوش و حواس میں اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنا چا ہتا مگر اپنی زرا سی لاپروائی سے اپنے ساتھ کئی اور انسانوں کی جانیں لے لیتا ہے ۔لا پروائی ،ڈرائیونگ کا تجربہ نہ ہونا ،سڑکوں کا صیح نہ ہونا یا قومی شاہراوں کے آس پاس آبادی کے ساتھ نا جائز تجاوزات ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں ۔

بلوچستان میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنی زندگی گنوا رہے ہیں ۔بلوچستان ایک بڑے رقبے پے پیلا ہوا ہیں دشوار راستے بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملا دیتے ۔بلوچستان میں قومی شاہراوں کی حالت اتنی اچھی نہیں جن پے ایک محفوظ سفر کیا جا سکے ۔اور دوسری طرف ان سڑکوں کے بنتے ہی ان کے دائیں بائیں دکانیں بنتی ہے جسکی وجہ سے آبادیوں کے درمیاں سے گاڑیوں کیلے راستہ تنگ رہ جاتا ہے ۔اسکی مثال منگوچر کے علاقے میں دو بڑے ٹریفک حادثات کا پیش آنا ہے۔اور جب ان قومی شاہراوں پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو وسیع میدان اور چٹیل پہاڑوں کو کئی گھنٹوں کی مسافت طے کر کے زخمیوں کو کسی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر DHQ ہسپتال پہنچایا جاتا جہاں باقی سہولیات کُجا زخمیوں کو بیڈ تک میسر نہیں ۔جائے حادثہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کیلے بمشکل ایک ہی ایمولینس مل جاتا ہے ۔اکثر زخمیوں کو فرش پے لٹا کر ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے ۔اگر حادثہ سرد موسم میں ہو مشکلیں اور بڑھ جاتی بلوچستان سے نکلنے والی گیس بلوچستان کے ہسپتالوں میں نہیں اسطرح اگر حادثہ رات کو ہو تو بجلی نہیں جسکی وجہ سے زخمی دم توڑ دیتے ہیں۔کیونکہ بہت سے کلینیکل آلات کو استعمال میں لانےکیلے بجلی اور گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی زخمی اپنی زخمیوں اور زندگی سے جنگ جیت جاتا ہے تو ہسپتال میں استعمال ہونے والے non sterlized آلات اسے کئی مہلک بیماریاں تحفے میں دے دیتے ہے۔ جن میں ہیپاٹائیٹس ،ایڈز اور دوسری مہلک امراض شامل ہیں ۔ دوسری طرف ہسپتالوں کا عملہ زندگی کے بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ غائب رہتا ہے ۔حادثات کے وقت بمشکل ہسپتالوں میں کئی چوکیدار یا وارڈ بوائے ہی موجود ہوتا ہے۔عملہ غائب کیوں نہ جہاں نا بجلی نہ گیس نہ بچوں کو پڑھانے کے لیے اسکول تک نہ ہو وہاں کونسا ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل سٹاف ایک کم تنخوا میں کام کریگا ۔اگر بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے تمام ہسپتال اور سکولوں کم از کم بنیادی سہولیات دی جائے تو ایک حدتک جواز بھی بن جاتا ہے اور عملے کے حاضری کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔

بلوچستان ایک وسیع علاقہ ہے , دور دور تک آبادیاں نہیں دکھتی جہاں آبادیاں وہاں ہسپتال نہیں اگر ہیں تو برائے نام. جائے حادثہ سے مریضوں کو کسی بڑے شہر یا ہسپتال تک پہنچانے میں گھنٹوں لگ جاتے ہے شاہ نورانی کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جہاں زخمیوں کو بروقت طبی امداد نہیں دی جاسکی تھی جسکی وجہ اموات زیادہ ہوئے تھے اگر تمام ڈسٹڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ٹرما سینٹرز قائم کی جائے اور تمام رورل ہیلتھ RHC سینٹرز BHUؓ بیسک ہیلتھ یونٹس میں جدید ابتدائے طبی امداد کی سہولیات فرائم کی جائے اور قومی شاہراوں پہ ایمبولینسز کی تعداد کو بھی زیادہ کی جائے کم از کم ہر بیس20 کلو میٹڑ پے ایک فرسٹ ایڈ سینٹر بنائی جائے تو ٹریفک حادثات کے نقصانات کو کسی حد تک کم کیا سکتا ہے .

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!